حضور ﷺ نے ایک اور حدیث پاک میں اس امیر کو قوم کا خادم فرمایا ہے: یعنی لوگو ں کو چاہیے کہ امیر کی اطاعت کریں اور امیر کو چاہیے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے کی بجائے ان کا خادم تصور کرے اور ان کی خیر خواہی کے کام کرے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد داعیانِ حق کے لئے مشعل راہ ہونا چاہیے:
خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے وقت آپ نے فرمایا، اللّٰہ سے ڈرو مجھ سے درگذر کرکے میرا ساتھ دو، امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں میری مدد کرو اور تمہاری جو خدمات اللّٰہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہیں ان کے متعلق مجھے نصیحت کرو“۔امیر کی اطاعت اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ۔
نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا،
’’اگر تم پر کوئی ناقص الاعضاء غلام بھی حاکم بنادیا جائے جو تم کو اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو“۔(مسلم )
تنظیم کا امیر اسے منتخب کیا جائے جو پرہیزگاری اور علم ودانائی میں سب سے زیادہ ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
’’ بےشک اللّٰہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے “۔
جب تک کسی تنظیم کے کارکن اپنے امیر کی اطاعت خلوص دل کے ساتھ نہیں کریں گے وہ تنظیم نظم وضبط کے فقدان اور انتشار کا شکار رہے گی۔ مومنوں کو تنظیم کے نظم و ضبط کی پابندی دینی فریضہ سمجھ کر کرنی چاہئے،
قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا۔
’’ ایمان والے تو وہی ہیں جو اللّٰہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک اُن سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں“۔
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے ایمان کی گواہی دی گئی ہے جو نظم و ضبط کے پابند ہوں اور کسی ڈیوٹی سے اس وقت ہٹیں جب اپنے امیر سے اجازت حاصل کر لیں۔
آقا ﷺکا ارشادہے۔
’’مسلمانوں کو اپنے امیر کی بات سننی اور ماننی ضروری ہے چاہے وہ حکم ان کی طبیعت کے لئے خوشگوار ہو یا ناپسندیدہ، بشرطیکہ وہ خدا کی نافرمانی کی بات نہ ہو،ہاں جب نافرمانی کا حکم دیا جائے وہ بات نہ سننی چاہئے اور نہ ماننی چاہئے“۔(بخاری،مسلم)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ہم نے آقا و مولیٰ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی کہ ہم ہر بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ خوشی ہو یا غمی ،اور حاکم سے حکومت کے لئے نہیں لڑیں گے اور حق پر قائم رہیں گے یا حق بات کہیں گے خواہ ہم کسی جگہ بھی ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے“۔ اطاعتِ امیر کی ایک مثال یہ ہے کہ امام کی غلطی پر مقتدی بھی سجدہ سہو کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر کی اطاعت شرعی امور میں لازم ہے خواہ اس کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہیں۔
جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ:
جمعہ کے دن حضورﷺ نے منبر پر فرمایا ، لوگو بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت مسجدکے دروازے پر تھے وہیں بیٹھ گئے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
جب آقاومولیٰ ﷺ نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ جب ہم دریا کے کنارے پہنچے تو انہوں نے حکم دیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا نام لے کر پانی میں اتر جاؤ، ہم نے ان کی اطاعت کی تو دریا یوں عبور کیا کہ اونٹوں کے تلوے بھی پانی سے تر نہ ہوئے۔ اسی طرح مدائن کی طرف لشکر کشی کے دن مسلمانوں نے اپنے امیر سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کے حکم کی تعمیل میں اپنے گھوڑے دریائے دجلہ میں ڈال دیئے اور اسے باآسانی عبور کرلیا۔ یہ سب امیر پر غیر متزلزل اعتقاد کا ثبوت ہے اور اسی میں برکت ہے۔

