اس کی تفسیر میں ہے کہ:
اگر مسلمانوں میں باہمی تعاون وتناصر نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کفار قوی ہونگے اور مسلمان ضعیف ، اور یہ بڑا فتنہ و فساد ہے۔ (خزائن العرفان) اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت کا کام انفرادی طور پر بھی کیا جاسکتا ہے مگر اجتماعی طور پر نظم و ضبط کے ساتھ اس کام کو کرنے میں کئی حکمتیں ہیں نیز دعوت و تبلیغ کے لئے اتحاد وتنظیم کی بنیاد ایمان ہے اور اس بنیاد پر تنظیم کی مضبوط عمارت اسی وقت قائم ہوسکتی ہے، جب ایمان والے ایمان کی لذت کو محسوس کرنے لگیں۔
غیب بتانے والے آقا ﷺ کا فرمان ہے:۔
”جس میں تین اوصاف ہونگے وہ ایمان کی لذت پائے گا،
اول: یہ کہ اس کے نزدیک اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت تمام ما سوا سے زیادہ ہو،
دوم: یہ کہ جس سے بھی اسے محبت ہو صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو، ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے اسے ایسی نفرت ہو جیسی آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے“۔ (بخاری،مسلم)
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب مومن کے دل میں دنیا کی ہر شے سے زیادہ اللّٰہ عزوجل اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت ہوگی تو وہ ہر کام کرنے سے پہلے ان کی رضا کے بارے میں ضرور سوچے گا کہ آیا یہ کام کرنے سے وہ ناراض تو نہ ہوجائیں گے، اس طرح وہ سچی محبت کے باعث نہ صرف اللّٰہ عزوجل اور آقا ومولیٰ ﷺ کی نافرمانی سے محفوظ رہے گا بلکہ اسلام کا سپاہی بن کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے اپنی ذمہ داری پوری دیانت سے ادا کرنے کے لئے کوشاں رہے گا۔
صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
’’ اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللّٰہ کا فضل و رضا چاہتے “۔
جب مومنوں کے نظریات و اوصاف باہم مشترک ہیں اور وہ ہر باطل سے تعلق توڑ کر صرف ایک اللّٰہ عزوجل کی بندگی اور ایک رسول ﷺ کی غلامی کو اپنا شعار بنالیتے ہیں تو ایک دوسرے سے تعاون، محبت اور اخوت کا رشتہ قائم ہونے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی،اس طرح ایک مضبوط تنظیم وجود میں آتی ہے بشرطیکہ ایمان والے ایک دوسرے سے ذاتی و دنیاوی مفادات کا تعلق نہ رکھیں بلکہ صرف اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہی محبت و اخوت کا تعلق قائم رکھیں۔
تیسرا وصف جو مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا ہے:
اس کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب سب مومن ، کفر سے اور گمراہی سے نفرت کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ مشترکہ دشمن کے مقابلے کے لئے ایک دوسرے کا سہارا بننے پر اور باہم اتحاد پر آمادہ نہیں ہوتے؟ حکم الٰہی ہے،’’ اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو بے شک اللّٰہ کا عذاب سخت ہے ۔“
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں ذیل میں بعض اوصاف بیان کئے جارہے ہیں جن کا پایا جانا کسی تنظیم کی بقا اور اس کے نظم و ضبط کے درجۂ کمال پر ہونے کی ضمانت ہوتا ہے۔ کاغذوں میں تنظیم تشکیل دینا بے حد آسان کام ہے مگر استقلال و استقامت کے ساتھ تمام مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے منزل کی سمت بڑھتے چلے جانا تنظیم کا اصل مقصود ہوتا ہے۔
بقول اقبال: شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا پُر دَم ہے اگر تُو، تو نہیں خطرۂ افتاد
1۔ اطاعتِ امیر: تنظیم کے کارکنوں میں نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک شخص کو وہ اپنا امیر بنالیں اور سب اس کی اطاعت کریں جیسا کہ مسلمان پانچ وقت ایک امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہیں۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
’’ اگر تین شخص سفر میں ہوں تو انہیں چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں“۔

