Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 26 of 50

حضرت خباب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا خوفِ خدا تو دیکھیے کہ جب مسلمانوں کو پے در پے فتوحات حاصل ہونے لگیں تو آپ رویا کرتے کہ کہیں ہماری تکالیف کا بدلہ دنیا ہی میں تو نہیں مل رہا ۔ حضرت عمار رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے والدین کو بھی اسلام کی وجہ سے سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں آپ کی والدہ کی شرم گاہ میں ابو جہل مردود نے نیزہ مار کر انہیں شہید کردیا، یہ اسلام میں پہلی شہادت تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ اور رسول اللّٰہ کی محبت اور اطاعت کا دعوی تو آسان ہے مگر ثابت کرنا اور پھر آسانی اور مصیبتیں یعنی ہر حالت میں اس پر قائم رہنا بہت مشکل ہے۔ سچی محبت تو وہی ہے جو شدید مصیبت اور پریشانی میں بھی قائم رہے۔

سیدنا حمزہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے قبولِ اسلام سے پہلے کا ایک واقعہ ہے کہ: ایک دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت اصرار کرکے سرکارِ دو عالم کو خانہ کعبہ لے گئے اور وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلام کا پہلا خطبہ دیا، خطبہ سنتے ہی کفار حملہ آور ہوگئے، اور آپ کو مارمار کر لہولہان کردیا آپ کا تمام چہرہِ اقدس خون سے بھر گیا اور آپ بیہوش ہوگئے، شام کو ہوش آیا تو زبان پر پہلا جملہ یہ تھا، کیا آقا خیریت سے ہیں؟ والدہ کچھ کھلانا چاہتی تھیں لیکن آپ نے قسم کھائی کہ میں کچھ نہ کھاؤں گا نہ پیوں گاجب تک اپنے آقا کو دیکھ نہ لوں گا۔ پھر جب رات گئے دارارقم جاکر آپ نے حضور کی زیارت کی تو سکون ملا۔ عشق ہو تو ایسا ہو،

اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت فاضلِ بریلی قدس سرہ نے خوب فرمایا:

جان ہے عشق مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اٹھائے کیوں

باب سوم: دعوت وتنظیم جب تنظیم کی بات کی جاتی ہے تو فوراً ہی نظم وضبط اور اصول وضوابط کا تصور ذہن میں آجاتا ہے، ایک مضبوط تنظیم اسی وقت قائم ہوتی ہے جب اہل حق ایمان کے جذبے سے سرشار ہو کر محبت وایثار کامظاہرہ کرتے ہوئے محض رضائے الٰہی اور دینِ مصطفیٰ کی سر بلندی کے لئے اپنے قلوب واذہان کا اتحاد کر لیتے ہیں ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان اور اللّٰہ کی رسّی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں بٹ نہ جانا) اور اللّٰہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا (دشمنی تھی)اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا اللّٰہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ “۔

تفسیر خزائن العرفان میں ہے کہ مسلم شریف میں وارد ہوا کہ قرآنِ پاک حبل اللّٰہ (یعنی اللہ کی رسی ) ہے جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر ہے جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہی پر۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حبل اللّٰہ سے جماعت مراد ہے اور فرما یا، تم جماعت کو لازم کرلو کہ وہ حبل اللّٰہ ہے جس کو مضبوط تھامنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔

سورۃ الانفال کی آیت میں ارشاد ہوا،

’’اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملادئیے ۔

“گویا مومنوں کا باہمی تعلق اخوت ومحبت کا تعلق ہے

اسی لئے سورۃ الحجرات میں مومنوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔

جبکہ کافروں کے باہمی تعلق کے بارے میں ارشاد ہوا ۔’

’ اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا ۔“

Share:
keyboard_arrow_up