Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 25 of 50

اللّٰہ تعالیٰ ایمان والوں کو ضرور آزماتا ہے کیونکہ آزمائش کے مراحل سے گزر کر ہی ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اور ان کے ایمانی دعوے کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے،

ارشاد ہوا،

’’ کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں گےکہ کہیں ہم ایمان لائے اور اُن کی آزمائش نہ ہوگی ‘‘۔

دوسری جگہ فرمایا:

’’ کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی ۔

ایک اور جگہ ارشاد ہوا،

’’ اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے ۔“

خزائن العرفان میں ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں امام شافعی علیہ الرحمہ نے فرمایا:

خوف سے مراد اللّٰہ کا ڈر،بھوک سے مراد رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوۃ و صدقات دینا، جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعے موتیں ہونا اور پھلوں کی کمی سے مراد اولاد کی موت ہے۔

صدرالافاضل نے مومنوں کو قبل از وقت آزمائشوں کی خبر دینے میں حکمتیں یہ بیان فرمائی ہیں کہ اس سے آدمی کو مصیبت کے وقت صبر آسان ہوجاتا ہے اور یہ کہ جب کافر دیکھیں کہ مسلمان بلا ومصیبت کے وقت صابر وشاکر اور استقلال کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہتا ہے تو انہیں دین کی خوبی معلوم ہو اور اس کی طرف رغبت ہو۔ایک حکمت یہ کہ آنے والی مصیبت کی قبل وقوع اطلاع غیبی خبر ہے اور نبی کا معجزہ ہے۔ اور ایک حکمت یہ بھی ہے کہ آزمائشوں کی خبر سے منافقوں کے قدم اکھڑ جائیں اور مومن اور منافق میں امتیاز ہو جائے۔

صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کی استقامت صحابَۂ کرام علیہم الرضوان نے راہ حق میں سخت ترین تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کیں ہیں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رات کو زنجیروں سے باندھ کر کوڑے مارے جاتے پھر اگلے دن تپتی ہوئی ریت پر سیدھا لٹا کر ان کے سینے پر بڑے وزنی پتھر رکھ دئے جاتے تاکہ اذیت و تکلیف کی وجہ سے اسلام سے پھر جائیں یا تڑپ تڑپ کر جان دے دیں لیکن بلال رضی اللہ عنہ کا عشق تھا کہ ان آزمائشوں سے مزید نکھرتا رہا اور پھر ایک وقت آیا کہ آپ دربارِ رسالت کے مؤذن اور آقا کے خادم خاص بن گئے ۔

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کو لوہے کی زنجیر پہنا کر دھوپ میں لٹا دیا جاتا اور کبھی پشت کے بل گرم ریت پر لٹا دیا جاتا جس سے جسم کا گوشت گل جاتا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دور خلافت میں آپ سے ان تکالیف کے بارے میں پوچھا تو آپ نے قمیض ہٹا کر پشت سامنے کر دی، دیکھا کہ برائے نام گوشت باقی ہے۔ پوچھنے پر عرض کی ، مجھے آگ کے انگاروں پر گھسیٹا گیا یہاں تک کہ میری پشت کی چربی اور خون سے وہ آگ بجھی۔

آپ ہی سے روایت ہے کہ:

ہم نے نبیِ کریم کی خدمت میں عرض کی،آپ ہمارے لئے مدد کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟

ارشاد فرمایا،

’’تم سے پہلے ایسے ایمان والے گزرے ہیں کہ ان میں سے بعض کو گڑھا کھود کر اس میں دبا دیا جاتا پھر ایک آرا لاکر ان کے سروں پر چلایا جاتااور ان کے دو ٹکڑے کردیئے جاتے، بعض کے جسم پر لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں جو گوشت سے گزر کر ہڈیوں تک پہنچ جاتیں لیکن ان تمام اذیتوں کے باوجود وہ دینِ حق سے روگردانی نہ کرتے۔ خدا کی قسم! دین اسلام غالب ہوکر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء(یمن) سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اسے اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگالیکن تم جلد بازی کررہے ہو۔ (بخاری)

Share:
keyboard_arrow_up