داعیِ اعظم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت فرمایا:
تم یہود و نصاریٰ کو پہلے اس کی دعوت دینا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، جب وہ یہ مان لیں تو انہیں بتا نا کہ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں اور جب وہ یہ بھی مان لیں تو پھر انہیں بتاناکہ ان پر زکوٰ ۃ بھی فرض ہے جو ان کے امراء سے لےکر غرباء کو دی جائے گی۔ (بخاری)
اسک حدیث پاک سے معلوم ہو ا کہ پہلے لوگوں کو عقیدۂ توحید و رسالت کی تعلیم دی جائے پھر انہیں نماز کی دعوت دی جائے ، جب وہ یہ مان لیں پھر انہیں زکوٰۃ سے آگاہ کیا جائے، یہ تدریج ہے۔ اب اگر کوئی داعی پہلے ہی دن مخاطب سے تمام فرائض و سنن ادا کرنے کا تقاضا کرے اور مکروہات سے بچنے کا عہد لینا چاہے تو یہ بات کس طرح مناسب ہوگی؟
انسان ، حیوانات اور نباتات سب کے سب تدریجی مراحل سے گزر کر ہی اپنے کمال کو پہنچتے ہیں، اسی طرح ابتدائی جماعتوں کا نصاب پڑھ کر ہی طالب علم کالج جانے کے لائق ہوتا ہے پس داعیان حق کو ان درمیانی مراحل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کسی بزرگ کے پاس ایک شخص بیعت ہونے آیا اور عرض کی، میں افیون کھاتا ہوں اس شرط پر بیعت لوں گا کہ آپ مجھے افیون کھانے سے نہیں روکیں گے۔ آپ نے فرمایا، ٹھیک ہے مگر یہ وعدہ کرو جب افیون کھاؤ گے مجھے دکھا کر کھاؤ گے۔ وہ بیعت ہو گیا۔ پھر جب بھی وہ افیون کھانا چاہتا حاضر ہوجاتا، آپ اس میں سے ایک چٹکی افیون کم کر لیتے۔ بتدریج آپ افیون کی مقدار کم کرتے چلے گئے اور آخر کاراس نے افیون چھوڑ دی، یہ ہے حکمت۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ پہلے صرف ان نیکیوں کی تلقین کی جائے جو معروف اور عام فہم ہیں یعنی نمازکی طرف راغب کیا جائے پھر نماز کے مسائل سکھائے جائیں اور دینی عقائد سیکھنے کی اہمیت بیان کی جائے پھر ذہنی طور پر آمادہ کرکے مزید تعلیم دی جائے یعنی بتدریج فرائض و واجبات کی طرف راغب کیا جائے اور اسی طرح ایک ایک کرکے برائیوں کو دور کیا جائے۔
11۔ صبر و استقامت:
داعیانِ حق کا سب سے اہم وصف صبر و استقامت ہے جسے سورۃ العصر میں نقصان سے بچنے کی ایک شرط قرار دیا گیا ہے۔ داعیانِ حق پر لازم ہے کہ راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور تکالیف پرنہ صرف وہ خود صبر کے پیکر بن جائیں بلکہ دوسرے داعیانِ حق کو بھی صبر کی وصیت کرتے رہیں اور ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہ آئے۔
راہِ حق میں مصائب و مشکلات کا پیش آنا اور طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا ہونا ایک فطری عمل ہے کیونکہ جب حق کا کلمہ بلند کیا جاتا ہے تو باطل کو ضرور تکلیف ہوتی ہے اس لئے جب بھی نیکی کی دعوت دی جائے گی شیطانی قوتیں فوراً مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں گی۔انبیاء کرام علیہ السلام کو بھی راہ حق میں بیشمار اذیتیں دی گئیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
’’ کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللّٰہ کی مدد سن لو بےشک اللّٰہ کی مدد قریب ہے “۔
تمام داعیانِ حق سے زیادہ مصائب وتکالیف آقا ﷺ نے برداشت کیں۔
آپ کا ارشادِگرامی ہے،
’’اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مجھے ڈرایا اور دھمکایا گیاکہ اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیااور جس قدر مجھ کو اذیتیں دی گئیں اتنی کسی اور کو اذیتیں نہ پہنچیں، ایک مرتبہ مجھ پر تیس راتیں اس حال میں گزریں کہ میرے اور بلال رضی اللہ عنہ کے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز ایسی نہ تھی جسے کوئی جاندار کھا سکے سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں تھا‘‘۔

