Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 23 of 50

ان حالات میں مناسب رد عمل یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں سے الجھنے سے اعراض کیا جائے اور مومنوں کا طریقہ یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے درگذر کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا ،

’’ اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام‘‘۔

9۔ میانہ روی:

سرکارِ دوعالم کا ارشادِ گرامی ہے:

’’دین آسان ہے جو شدت کا رویہ اپنائے گا وہ مغلوب ہوجائے گا اس لئے سیدھی اور میانہ روی کی راہ اپناؤ اور خوشخبری حاصل کرو“۔

جب زندگی کے کسی ایک پہلو میں اعتدال سے تجاوز کیا جاتا ہے تو دوسرے پہلو ضرور متأثر ہوتے ہیں اور اس طرح بہت سے حقوق و فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی بھی ہوجاتی ہے یہ روش اسلامی روح کے عین خلاف ہے، جب آقا کو یہ خبر دی گئی کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عبادت میں ایسے محو رہتے ہیں کہ گھر والوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے تو آپ نے ان سے فرمایا،

’’ایسا نہ کرو، روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، قیام بھی کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے ، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے“۔ (بخاری) اس کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ اہل خانہ کے حقوق ادا کرنے میں اللّٰہ تعالیٰ کے حقوق کو فراموش کردیا جائے یا مہمان گھر آئیں تو ان کی مہمان نوازی میں نماز چھوڑ دی جائے۔

کیونکہ حدیث شریف میں ہے،

’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔“

حاصل کلام یہ ہے کہ حقوق اللّٰہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کئے جائیں ۔ ایک اور موقع پر

آقا نے فرمایا،

خدا کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں سوتا بھی ہوں ، بیویوں سے نکاح بھی کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں“۔

(بخاری ، مسلم)

لوگوں کو دعوت حق دیتے ہوئے بھی داعی کو اعتدال کی راہ اپنانی چاہیے یعنی نہ تو خوف وعذاب کا ایسا ذکر کیا جائے کہ سننے والے رحمتِ الٰہی سے مایوس ہوجائیں اور اپنی اصلاح کو محال سمجھنے لگیں، اور نہ ہی رحمت و مغفرت کا اس انداز میں ذکر ہو کہ لوگ گناہ پر دلیر ہوجائیں اور خوف خدا سے عاری ہوکر غیر ذمہ دار بن جائیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے،

’’ بہترین عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں کرتا اور نہ اس کی نافرمانی کے لئے انہیں چھوٹ دیتا ہے اور نہ ہی انہیں عذابِ الٰہی سے بے خوف بناتا ہے“۔

10 ۔ تدریج: دعوت و تربیت کے کام میں تدریج کا خیال رکھنا حکمت کا ایک اہم جزو ہے۔ نزول قرآن کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ساری آیات بیک وقت نازل نہ فرمائیں بلکہ حسبِ ضرورت و حکمت انہیں بتدریج نازل فرمایا، اسی طرح داعی کو چاہیے کہ وہ نئے شخص کو تمام شرعی احکام ایک ساتھ نہ بتائے بلکہ پہلے صرف عقائد کی اصلاح کرے اور نماز کی تلقین کرے پھر دیگر فرائض و واجبات سکھائے اور حرام کاموں سے بچنے کی تاکید کرے، آغاز ہی میں فروعی معاملات کو زیرِبحث نہ لائے۔ تدریج ایک فطری اور ضروری چیز ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

قرآن عظیم میں شروع میں صرف وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے یہاں تک کہ جب لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تو حرام اور حلال کی آیات نازل ہوئیں، اگر پہلے ہی مرحلے میں شراب اور زنا کی حرمت کے احکام نازل ہوجاتے تو لوگ پکار اٹھتے کہ ہم شراب اور زنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔  (بخاری)

Share:
keyboard_arrow_up