ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ تم اُن سے چشم پوشی کر و اور انہیں سمجھا ؤ اور ان کے معاملہ میں اُن سے رسا (اثر کرنے والی)بات کہو “۔
آقا ﷺ کو یہ حکم منافقوں کے بارے میں دیا گیا تھا، اس سے اندازہ لگائیے کہ دعوت و تبلیغ میں مخالفین کی بدتمیزی کو بھی درگذر کرنا چاہیے تو مسلما ن زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں نرمی اور اخلاق سے سمجھایا جائے۔
اسی لئے ارشاد ہوا:
’’اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے “۔
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا:
’’ چاہیے کہ معاف کریں اور درگزریں “۔
رحمتِ عالم ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی انتقام نہیں لیا لیکن آپ جب اللّٰہ تعالیٰ کی متعین فرمائی ہوئی حدود کی بے حرمتی یعنی شرعی احکام کی خلاف ورزی دیکھتے تو اللّٰہ تعالیٰ کے لئے غضب فرماتے اور اس کا بدلہ لیتے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
ایک بارایک اعرابی نے آقا ﷺ کی چادر مبارک پکڑ کر آپ کو نہایت زور سے کھینچا، میں نے دیکھا کہ اس اعرابی کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے گردن مبارک پر چادر کے نشان پڑ گئے ہیں۔ وہ بولا، اے محمدﷺ!اللّٰہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی کچھ دیجیے۔ آقا ﷺ اس کی طرف دیکھ کر مسکرادیے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم فرمایا۔
قرآنِ حکیم میں مومنوں کو یہی تعلیم دی گئی ہے کہ:
’’ برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست‘‘۔
یہ ایک اہم اصول ہے جسے اپنانے سے داعی کا تزکیہ نفس بھی ہوتا رہتا ہے اور آخر کار مخالف مداح بن جاتا ہے۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ:
شیخ ابو عثمان حیری کے سر پر کسی نے چھت پر سے بہت سی خاک ڈال دی آپ نے وہ خاک جھاڑی اور خدا کا شکر ادا کیا، کسی نے پوچھا کہ آپ شکر کس بات کا ادا کررہے ہیں؟ فرمایا، جو آگ میں ڈالے جانے کا مستحق ہو اس پر صرف خاک ڈال دی جائے تو کیا یہ شکر کی بات نہیں؟ (کیمیائے سعادت)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ سے دوران گفتگو کسی نے کہہ دیا، خدا سے ڈرو ! آپ کا چہرہ زرد پڑگیا آپ نے سر جھکالیا اور فرمایا ، خدا تمہیں جزا دے ، جس وقت کسی کو علم پر ناز ہونے لگے اس وقت وہ محتاج ہوتا ہے کہ کوئی اسے خدا یاد دلادے“۔ (مناقب للموفق)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
رب تعالیٰ کے نزدیک یہ بڑے گناہوں میں سے ہے کہ جب کوئی کسی دوسرے کو نصیحت کرے اور کہے کہ تو اللّٰہ سے ڈر تو برائی کرنے والا جواب میں کہے، تو خود کو سنبھال اور میری فکر چھوڑ“ ۔ (کیمیائے سعادت) ایسا کہنا اللّٰہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور ایسے وقت میں انبیاء کرام علیہم السلام کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ درگذر فرماتے ہیں۔
ایک طعنہ آمیز جملہ اکثر داعیانِ حق کو ملتا ہے جو کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا تھا: ’’ بولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں ہاں جی تمہیں بڑےعقل مند نیک چلن ہو “۔
کم نصیبی سے ہمارے معاشرے میں بھی یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ’’ کسی کو نماز پڑھنی ہو تو اپنے لئے پڑھے ہمیں نصیحت نہ کرے“۔ اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی سے غافل لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو نماز پڑھے گا وہ نماز کی برکتوں سے دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین کرے گا اور پھر ہمارے برے کاموں پر ضرور تنقید کرے گا اس لئے وہ پہلے نماز کا اور پھر عقلمند اور نیک ہونے کا طعنہ دیا کرتے ہیں۔ داعی حق کے لئے یہ سب سے پہلی آزمائش ہوتی ہے پھر اس کے بعد اس کی ذات کو مزید طعنوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

