یہ بات واضح ہے کہ نہ تو کوئی داعی کسی پیغمبر سے بہتر ہوسکتا ہے اور نہ ہی فرعون سے بڑھ کر کوئی مجرم ہوسکتا ہے اس کے باوجود جب ان جلیل القدر انبیاء کرام کو نرمی و مہربانی سے دعوت و نصیحت کی تاکید فرمائی گئی تو عام مبلغین کو عام نافرمانوں کے ساتھ ضرور نرمی کا سلوک کرنا چاہیے۔
سرکارِ دو عالم ﷺکا ارشاد ہے ،
’’ قیامت کے دن مؤمن کے ترازو میں جو سب سے وزنی نیکی رکھی جائے گی وہ حسنِ اخلاق ہے اور اللّٰہ تعالیٰ بد اخلاق اور فحش گو سے ناراض ہے“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ:
’’ بارگاہِ نبویﷺ میں سوال کیا گیا ،’’ بدبختی کیا ہے ؟
ارشاد ہوا : بداخلاقی۔ “(مشکوۃ)
بعض لوگ نرمی سے غلط مفہوم مراد لیتے ہیں اور وہ باطل سے مصالحت اور بے جا رواداری پر اتر آتے ہیں حالانکہ یہ فعل خلاف شرع ہے۔ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کی ایک صفت قرآن نے یہ بتائی ہے کہ وہ ’’ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل“۔
تفسیر خزائن العرفان میں ہے کہ:
صحابَۂ کرام اس بات کا بھی لحاظ رکھتے تھے کہ ان کا جسم کسی کافر سے نہ چھو جائے اور ان کے کپڑے سے کسی کافر کا کپڑا نہ لگنے پائے۔
باطل سے مصالحت و دوستی اور بے جا رواداری سے ایمان برباد ہوجاتا ہے۔
غیب بتانے والے آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا،
بنی اسرائیل میں پہلا زوال اس طرح شروع ہو ا کہ ایک شخص کسی سے ملتا اور اسے کوئی برائی کرتے دیکھتا تو کہتا ،’’ اللّٰہ سے ڈر اور برائی نہ کر‘‘ لیکن اس کے نہ ماننے کے باوجود اس سے اپنی دوستی اور تعلق کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے میں قائم رکھتا ، جب عام طور پر لوگ ایسا کرنے لگے تو اللّٰہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے دلوں کو بھی نافرمانوں جیسا کردیا پھر حضور ﷺ نے قرآن کی آیات (المآئدہ 78 تا 81)تلاوت فرمائیں۔
(جن کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ان لوگوں پر کافروں سے دوستی کی وجہ سے پیغمبروں نے لعنت فرمائی) اور بڑی تاکید سے یہ حکم دیا کہ ”نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو اور ظالم کو ظلم سے روکتے رہو اور اسے حق بات کی طرف کھینچ کر لاتے رہو‘‘۔(ابو داؤد)
بنو امیہ کا گورنر مروان جب روضۂ انور پر حاضر ہوا تو ایک شخص کو قبرانور سے چمٹا ہوا دیکھا۔مروان نے اس کی گردن پکڑ کر کہا، اے شخص تجھے علم ہے تو کیا کر رہا ہے؟ یہ بزرگ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے فرمایا:ہاں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں، اے مروان! میں مٹی اور پتھر کے پاس نہیں آیا بلکہ اپنے آقا و مولیٰﷺ کے دربارِاقدس میں حاضر ہوں اے مروان! جب متقی حاکم بنیں تو رونے کی ضرورت نہیں مگر جب نااہل لوگ والی بنیں تو رونا چاہئے، یہ سن کر مروان خاموشی سے چلا گیا۔
سچ ہے کہ: آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی اللّٰہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی خلاصہ یہ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ ایک حد تک نرمی کا برتاؤ ضروری ہے مگر مخصوص حالات میں مناسب سختی کرنا بھی حسن اخلاق کے منافی نہیں۔
8۔ عفو و درگذر :
داعی کے اوصاف میں ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ عفو ودرگزر کا پیکر ہو۔ نبیِ کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں کسی نے حسنِ اخلاق کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے سورۃ الاعراف کی آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ
”اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو“۔
پھر آقا ﷺ نے فرمایا:
’’حسن اخلاق یہ ہے کہ تم قطع تعلق کرنے والوں سے صلہ رحمی کرو، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو ظلم کرے اسے معاف کردو“۔

