Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 20 of 50

آپ کو یہ بھی چاہئے کہ سوز وگداز،خلوص اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ مؤثر انداز میں جذبات کو ابھاریں، آپ دنیا کی بے ثباتی،موت و آخرت کی فکر ، جہنم کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کے بارے میں اس طرح گفتگو کیجئے کہ مخاطب کے د ل میں اللّٰہ تعالی کی بندگی کا شوق اور آقاو مولیٰ کی محبت و اطاعت کا جذبہ پیدا ہوجائے یہاں تک کہ وہ راہ حق ہی کو اپنی نجات کا ضامن سمجھنے لگ جائے آپ کا اندازِ گفتگو ایسا دلنشیں ہو کہ مخاطب آپ کے لہجے اور لفظوں میں وہ تڑپ محسوس کر سکے جو اس کی اصلاح کے لئے آپ کے دل میں موجزن ہے۔

اگر بالفرض مخاطب بحث پر آمادہ ہو تو حکم یہ ہے کہ آپ سخت کلامی اور طنزیہ گفتگو سے بالکل پرہیز کرتے ہوئے محض دین کی سربلندی اور رضائے الٰہی کے لئے اس سے نرم لہجے اور شائستہ انداز میں بحث کیجئے تاکہ اس کے دل میں ضد،انا،نفرت اور تعصب کے جذبات نہ ابھریں ، بالکل سادہ جملوں میں مناسب عقلی دلائل دیتے وقت آپ کے دل میں یہی تڑپ اور آرزو ہو کہ کاش یہ شخص اپنے رب کا مخلص بندہ اور آقا کا سچاغلام بن جائے، البتہ جب یہ ظاہر ہونے لگے کہ وہ محض ضد اور تعصب کے ساتھ بحث برائے بحث کرنا چاہتا ہے تو بحث فوری طور پر ختم کردیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں نیز اس کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو ‘‘۔

7۔ نرمی اور شفقت:

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کو نرم مزاج اور شفیق ہونا چاہئے۔ دعوت و تربیت کے سلسلے میں نرمی اور آسانی کو اختیار کرنا اور سختی سے اجتناب کرناکتنا ضروری ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ:

آقا نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یمن کی جانب بھیجا تو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا،

’’ نرمی کرنا، سختی نہ کرنا، خوشخبری سنانا،متنفر نہ کرنا ، مل جل کر رہنا اور باہم اختلاف سے بچنا‘‘۔

آقا ومولیٰ ہمیشہ کشادہ رو، نرم مزاج رہتے تھے آپ بد اخلاق نہ تھے اور نہ ہی سخت دل ،نہ چلّانے والے،نہ بد گوئی کرنے والے۔

ایک بار کسی اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا صحابَۂ کرام اسے مارنے کے لئے بڑھے تو آپ نے فرمایا ،

’’ اسے چھوڑ دو اور پانی کا ڈول لا کر بہادو کیونکہ تم نرمی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے نہیں“۔

آقا کا ارشاد ہے،

’’ نرمی اختیار کرو اور سختی اور بدگمانی سے بچو۔ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اسے اچھا کر دیتی ہے اور جس چیز سے یہ نکل جاتی ہے اسے عیب دار بنا دیتی ہے‘‘۔

ایک اور روایت میں ہے ،

’’جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ بھلائی سے محروم کردیا گیا“۔

داعی کا کسی غافل گنہگار سے نفرت کرنا ایسے ہی ہے جیسے ڈاکٹر اپنے مریض سے نفرت کرے۔ اس لئے داعی کو چاہیے کہ وہ مدعو کے گناہ سے نفرت کرے نہ کہ گنہگار سے۔ داعیانِ حق کو نہ صرف اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرنا چاہیے بلکہ گمراہوں کو بھی نرم لہجے اور ناصحانہ انداز میں راہ حق کی طرف بلانا چاہیے کیونکہ سختی اور شدت سے مخاطب کے دل میں ضد ، انا اور عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ آپ کی نہایت اچھی اور سچی باتوں کو بھی ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا تو یہی نصیحت فرمائی،

”تو اُس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے “۔

Share:
keyboard_arrow_up