Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 19 of 50

اس آیت کی تفسیر میں صدر الافاضل فرماتے ہیں،

پکی تدبیر سے وہ دلیل ِ محکم مراد ہے جو حق کو واضح اور شبہات کو زائل کردے اور اچھی نصیحت سے ترغیبات و ترہیبات مراد ہیں۔(خزائن العرفان)

اس آیت میں دعوت کے تین اصول بیان ہوئے ہیں:

اول: یہ کہ دینی دعوت حکمت و دانائی کے ساتھ دی جائے،

دوم: یہ کہ عمدہ انداز میں اچھی نصیحت کی جائے ،

سوم: یہ کہ بہتر طریقے پر بحث کی جائے ۔

حکمت سے مراد صحیح بصیرت ، درست فہم اور عقل و دانائی کے ساتھ ایسے دلائل پیش کرنا ہے جو مخاطب کو حق کو قبول کرنے پر آمادہ کردے۔

اعلی حضرت محدث بریلوی قدس سرہ نے اسی لئے ’’حکمت‘‘ کا ترجمہ پکی تدبیر فرمایا ہے۔ حکمت کا مفہوم اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ حدیث پاک ملاحظہ فرما ئیں،

’’ایک نوجوان بارگاہِ نبوی میں عرض گزار ہوا، یارسول اللّٰہ ! مجھے زنا کی اجازت دے دیجئے۔ یہ سن کر صحابہ نے اسے مارنا چاہا مگر حضور نے انہیں روک دیا اور اس نوجوان کو قریب بلا کر نرمی سے فرمایا،

کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ کوئی تمہاری ماں سے یہ فعل کرے؟ اس نے کہا،میں یہ کبھی پسند نہیں کر سکتا۔

آپ نے فرمایا، دوسرے لوگ بھی اسے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اس کی بہن، پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اسی طرح سوال کیا اور ہر بار پوچھا، کیا تمہیں پسند ہے؟ وہ نوجوان ہر بار یہ جواب دیتا، میری جان آپ پر قربان ہو میں یہ کبھی پسند نہیں کر سکتا، آپ ہر جواب کے بعد فرماتے، لوگ بھی اسے پسند نہیں کرتے، پھر آپ نے اس کے سر پر ہاتھ مبارک رکھ کر دعا فرمائی ، الٰہی ! اس کے گناہ معاف فرما دے ،اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو برائیوں سے محفوظ کردے ، پھر وہ نوجوان کبھی ایسی برائی کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔

غور فرمائیے کہ آقا نے کس حکمت و دانائی کے ساتھ اس کے جذبات کو عقل و دماغ کے تابع کر دیا اور اسے اس برے فعل سے نفرت دلائی، داعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی کا مذاق اڑانے، سخت تنقیدی جملے کہنے اور طنزیہ انداز سے بالکل دور رہے۔

اور یہ بھی حکمت کا حصہ ہے کہ داعی دوستانہ ماحول میں گفتگو کرے، مخاطب کی بات توجہ اور اطمینان سے سنے، اس کے غلط نظریات پر فوراً تنقید نہ کرے بلکہ پہلے اس کی اچھی باتوں کی تائید کرے پھر اپنی اچھی بات تجویز کے طور پر پیش کرے، اسے سوچنے کا موقع دے اور اس دوران اپنے انداز اور گفتگو سے اسے یقین دلانے کی کوشش ضرور کرے کہ ہمیں محض رضائے الٰہی کے لئے حق کو سمجھنا اور اپنانا چاہئے تاکہ ہماری آخرت سنور جائے، کوشش کی جائے کہ زیادہ دیر تک موافقت کا ماحول قائم رہے۔ یعنی گفتگو کا آغاز مشترکہ امور سے ہونا چاہئے، داعی اپنا پیغام اس انداز سے پیش کرے کہ مخاطب اسے اپنے دل کی آواز سمجھے، اس کے لئے مخاطب کی نفسیات اور اس کے حالات کا صحیح جائزہ ضروری ہے۔ ہر وقت نصیحت کرتے رہنا اکتاہٹ اور بیزاری کا باعث بن سکتا ہے اس لئے مخاطب کے حسب حال گفتگو کی جائے،’’ آقا جمعہ کے روز طویل وعظ نہیں فرماتے تھے۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

لوگوں کو ہفتہ میں ایک بار وعظ سناؤاگر نہ مانو تو دو دفعہ، اگر ضروری ہو تو تین بار، اس قرآن سے لوگوں کو اکتا نہ دو، ایسا ہر گز نہ کرنا کہ کوئی قوم اپنی کسی بات میں مشغول ہو اور تم وعظ شروع کرکے ان کی بات کاٹ دو بلکہ خاموش رہو اور جب وہ خود عرض کریں تو انہیں حدیث سناؤ۔“

داعی کو چاہئے کہ وہ مخاطب کی ذہنی کیفیت اور اس کے دین کو سمجھنے کی صلاحیت اور موقع محل کا خیال رکھتے ہوئے اسے اللّٰہ تعالیٰ اور حبیبِ کبریا کی اطاعت کی طرف بلائے اور اس سلسلے میں ایسے محکم دلائل دے جس سے حق واضح ہو جائے اور اگر اس کے ذہن میں کوئی شک وشبہ ہو تو وہ دور ہو جائے ۔

Share:
keyboard_arrow_up