Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 18 of 50

ہر داعیِ حق کے دل میں ایسا ہی پر خلوص جذبہ، داعیانہ تڑپ اور احساس ذمہ داری ہونا چاہیے کہ وہ یہ سوچ کر لرز اٹھے اور آنسو بہائے کہ اگر قیامت میں مجھ سے پوچھا گیا کہ تم نے اپنے گھر والوں ، کالج اور دفتر والوں ، محلے اور شہر والوں کے سامنے حق کی گواہی دی یا نہیں تو میں کیا جواب دوں گا، وہ سوچے کہ کیا لوگوں کے انکار کے باوجود بھی میں ان کی ہدایت کے لئے بےقرار رہتا ہوں؟

کیا اپنے ارد گرد بسنے والے تمام انسانوں تک میں نے دین حق کی دعوت پہنچا دی ہے؟

مختصر یہ ہے کہ جب تک داعی منصبِ دعوت کی ذمہ داری کا شدید احساس اپنے دل میں پیدا نہیں کرے گا وہ اس منصب کے کماحقہ فرائض ادا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔

5۔ قول و فعل میں یکسانیت:

داعیانِ حق کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو بلکہ جو دعوت دوسروں تک پہنچا رہے ہوں ان کی عملی زندگی بھی اس دعوت حق کی آئینہ دار ہونی چاہئے۔

اس لئے ہر داعی کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال کرے اور برے کاموں سے دور رہے کیونکہ داعی کے قول و فعل میں تضا د اس کی دینی دعوت کے لئے شدید نقصان دہ چیز ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہوا،

’’ کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں “۔

یعنی دوسروں کو نصیحت کرنے سے قبل داعی کو خود اچھائیوں کو اپنا لینا اور برائیوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔

ایک اور جگہ فرمایا گیا،

’’ اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتےکتنی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو“۔

حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص آگ میں پھینک دیا جائے گا اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ آگ میں اس طرح پھرے گا جس طرح گدھا اپنی چکی میں پھرتا ہے۔ دوسرے جہنمی پوچھیں گے ، کیا تم دنیا میں ہمیں نیکی کی تلقین نہیں کرتے تھے اور برائیوں سے نہیں روکتے تھے؟ وہ کہے گا ،’’ میں تمہیں نیکی کی تلقین کرتا تھا مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور تمہیں تو برائی سے روکتا تھا مگر خود برائیاں کرتا تھا“۔ 

ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ،

میں نے معراج کی شب دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا، یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے عرض کی ، یہ آپ کی امت کے خطیب اور نصیحت کرنے والے ہیں جو لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے۔(مشکوٰۃ)

اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ

دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنا اور خود اس پر عمل نہ کرنا بلا شبہ عذاب کا باعث ہے لیکن یہ عذاب عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے نہیں ، اس لئے اگر کوئی عمل نہ کرسکنے کی وجہ سے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑدے گا تو دو واجب ترک کرنے کی وجہ سے اور زیادہ عذاب کا مستحق ہوگا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

ہم نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، یارسول اللّٰہ! کیا ہمیں نیکی کا حکم اس وقت دینا چاہیے جب ہم خود مکمل طور پربرائیوں سے دور ہو جائیں؟

ارشاد فرمایا،

تم نیکی کا حکم دیتے رہو اگرچہ خود مکمل طور پر اس پر عمل پیرا نہ ہو اور برائیوں سے منع کرتے رہو اگرچہ تم خود تمام برائیوں سے کنارہ کش نہ ہوسکو“۔

یعنی اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کا کام بھی جاری رکھنا چاہیے۔

6۔ حکمت ودانائی:

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:’’

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بےشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو ۔

Share:
keyboard_arrow_up