حضور ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے:
’’ایک فقیہ یعنی عالم، شیطان پرہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے“ ۔
ان تمام احادیث مبارکہ میں عالم سے مراد صحیح العقیدہ سنی عالم با عمل ہے۔ ایک بار رسولِ معظم ﷺ مسجد نبوی میں تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک جماعت عبادت و دعا میں مشغول ہے اور ایک مجلس میں دینی علم سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے، ایک مجلس والے اللّٰہ سے دعا کر رہے ہیں اور اس کی طرف راغب ہیں اگر وہ چاہے انہیں دے چاہے نہ دے لیکن جو لوگ علم ِدین سیکھنے سکھانے میں مصروف ہیں وہی افضل ہیں۔ میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔یہ فرما کر آپ اس مجلس میں تشریف فرما ہوئے“۔
ان احادیثِ کریمہ سے یہ معلوم ہوا کہ داعیانِ حق کے لئے دین کا علم حاصل کرنا بےحد ضروری ہے اور اس کے بیشمار فضائل ہیں نیز یہ کہ دین کا علم و فہم حاصل کر کے ہی داعیانِ حق اپنے تمام معاملات میں اسلام کے مطابق عمل پیرا رہ سکتے ہیں۔
4۔ داعیانہ تڑپ:
داعیانِ حق کے لئے داعیانہ تڑپ پیدا کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر اس اعلیٰ منصب کا حقیقی شعور حاصل نہیں ہوتا۔ آقا و مولیٰ ﷺکے اسوۂ حسنہ کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ آپ کی ظاہری حیات مبارکہ دعوت و تبلیغ اور اصلاح فکر و عمل کے لئے جد و جہد سے عبارت ہے۔ ہر لمحہ یہی فکر ہے، یہی لگن ہے، یہی احساس ہے اور اسی مقصد کے لئے آپ کے شب و روز وقف ہیں۔ مکہ مکرمہ کی گلیوں میں کلمۂ حق بلند کرنا،
بدر و احدکے معرکوں میں شجاعت کا مظاہرہ کرنا، طائف میں لہو لہان ہونا، گالیاں سن کر برداشت کرنا، پتھر گندگی اور دیگر اذیتوں پر صبر کرنا، شعب ابی طالب میں تین سال نظر بند رہنا، یہ اسی داعیانہ جدو جہد کی مثالیں ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’ آقا ﷺ نے مجھے تلاوت کرنے کا حکم دیا۔ میں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی جب میں نے یہ آیت پڑھی
(ترجمہ:
” تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں “۔
تو میں نے دیکھا حضور ﷺ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں“۔
غور فرمائیے یہ کون سی ذمہ داری کا شدید احساس تھا جس نے آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں کر دیے۔ یہ ذمہ داری یقینی طور پر حق کی دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری تھی۔ رب عزوجل کی بارگاہ میں اس ذمہ داری کے بارے میں گواہی دینے کے احساس نے آپ کی آنکھوں کو اشکبار کر دیا حالانکہ آپ سے زیادہ کامل داعی الیٰ اللّٰہ نہ کوئی ہوا اور نہ کوئی ہوگا۔
آقا ﷺ کا ارشاد ہے،
’’میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی اور جب ارد گرد کا ماحول آگ کی روشنی سے چمک اٹھا تو کیڑے پتنگے آگ پر گرنے لگے۔ وہ شخص پوری قوت سے ان پروانوں ، پتنگوں کو روک رہا ہے لیکن وہ اس کی کوششوں کو ناکام بنا کر آگ میں گرے جا رہے ہیں ایسے ہی میں تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے جا رہے ہو“۔
حضور ﷺ جہد مسلسل کے ذریعے لوگوں کو دین ِحق کی طرف بلایا کرتے تھے۔ جب کافروں نے آپ کی پر خلوص کاوشوں کے باوجود دعوت حق کو جھٹلایا اور آپ ان کے حق قبول نہ کرنے پر غمزدہ ہوئے تو قرآن عظیم نے آپ کے پر خلوص جذبے، داعیانہ تڑپ اور درد وسوز کو یوں بیان فرمایا،
’’کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے اُن کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے“۔
آقائے دوجہاں ﷺ کے دل اقدس میں لوگوں کی خیر خواہی اور ہمدردی کاجذبہ اس قدر تھا کہ آپ جب خطاب فرماتے تو آنکھیں سرخ ہو جاتیں، جذبات میں تیزی آجاتی، ایسا معلوم ہوتا کہ کسی فوج کے حملہ آور ہونے سے آگاہ فرما رہے ہیں۔

