Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 16 of 50

حضرت یحییٰ بن معاذ علیہ الرحمہ سے پوچھاگیا، مخلص کون ہے؟ فرمایا:

جس طرح شیرخوار بچے کو نہ تو تعریف اچھی لگتی ہے اور نہ مذمت بری معلوم ہوتی ہے اسی طرح جب انسان تعریف اور تنقید کی پرواہ نہ کرے تو وہ مخلص ہو جاتا ہے۔

3۔ حصولِ علم و فہم دین:

آقا و مولیٰ کا ارشاد گرامی ہے،

’’علم دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اس کی شرح میںفرماتےہیں، 

علم سے مراد وہ علم ہے جو مسلمانوں کو وقت پر جاننا ضروری ہے مثال کے طور پر جب کوئی اسلام میں داخل ہوا تو اللّٰہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور حضور کی نبوت کو جاننا فرض ہو گیا جس کے بغیر ایمان صحیح نہیں، اور جب نماز کا وقت آگیا تو اس پر نماز کے احکام جاننا فرض ہو گئے اور جب ماہِ رمضان آیا تو روزے کے احکام سیکھنا فرض ہوئے اور جب مالک نصاب ہوا تو زکوٰۃ کے مسائل جاننا فرض ہوئے اور جب نکاح کیا تو حیض و نفاس وغیرہ جتنے مسائل کا بھی زن و شوہر سے تعلق ہے وہ سیکھنا فرض ہو گئے‘‘۔

اس سے معلوم ہو ا کہ داعی کو دین کے تمام بنیادی مسائل کسی صحیح العقیدہ سُنی عالم سے سیکھنے چاہئیں کیونکہ علم سیکھنے سے ہی دینی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔

آقا کا ارشاد ہے،۔

’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللّٰہ تعالی عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ (بخاری ، مسلم)

اگر داعی کو ضروری علم حاصل نہ ہو تو وہ اصلاح و تربیت کا اہم فریضہ ادا نہیں کرسکتا۔

قرآن حکیم میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ،

دین کا علم بندے کوخوفِ خدا کی نعمت عطا کرتا ہے اور درجات کی بلندی کا باعث بھی ہے۔

ارشاد ہوا،

’’اللہ سے اس کےبندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔“

مزید فرمایا گیا:

’’اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا ۔“

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

اہلِ علم وہی ہیں جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:

اللّٰہ تعالیٰ کا ڈر حکمت کی اصل ہے۔

اب علم دین سیکھنے کے بارے میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔ آقا کا فرمان عالیشان ہے:

’’ جو علم دین سیکھنے نکلا وہ واپسی تک اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں ہے“۔

دمشق کی مسجد میں ایک شخص حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آکرکہنے لگا، میں مدینہ منورہ سے آپ کے پاس صرف ایک حدیث سننے کے لئے آیا ہوں اس کے علاوہ مجھے کوئی کام نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا:

میں نے نبی کریم کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص علم دین کی طلب کرنے کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اسے جنت کے راستے پر چلاتا ہے، بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کے لئے اپنے پَر بچھا دیتے ہیں اور بیشک آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوق اور پانی میں مچھلیاں اس کے لئے دعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں اور یقیناً عالم کی فضیلت عابد پر وہی ہے جو چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر اور بیشک علماء حق انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں“۔

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا،

’’خبردار! بیشک دنیا ملعون ہے اور جو چیزیں اس میں ہیں وہ بھی ملعون ہیں مگر ذکر الٰہی اور وہ چیزیں جنہیں رب تعالیٰ محبوب رکھتا ہے اور عالم یا طالب علم بھی‘‘۔

ایک اور حدیث میں فرمایا گیا:

’’جس نے عالم کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی اور جس نے عالم سے مصافحہ کیا گویا اس نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جس نے عالم کی صحبت اختیار کی گویا اس نے میری صحبت اختیار کی، اللّٰہ عزوجل اس کو جنت میں میرا ہم نشین بنائے گا“۔

Share:
keyboard_arrow_up