عشرہ مبشرہ میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سولہ سال کی عمر میں ایمان لائے، کم عمری ہی میں شجاعت و بہادری کا یہ عالم تھا کہ کسی نے یہ جھوٹی خبر دی کہ مشرکین نے حضور ﷺکو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ سنتے ہی آپ ننگی تلوار لیے گھر سے نکل پڑے اسی حالت میں بارگاہِ نبوت میں جا پہنچے تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ زبیر! یہ کیا؟ آپ نے سارا ماجرا بیان کیا ، آقاﷺ بہت خوش ہوئے اور ان کے لیے دعا فرمائی ۔ غزوہ بدر میں آپ اس بے جگری سے لڑے کہ آپ کی تلوار میں دندانے پر گئے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ انیس سال کی عمر میں ایمان لائے ۔ ایمانی جذبہ کا یہ عالم تھا کہ مدائن کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے دریائے دجلہ میں گھوڑے ڈال دیے اور اپنے لشکر کے ہم راہ یوں دریا عبور کیا کہ کفار ہیبت زدہ ہو گئے آپ اپنی شجاعت و جنگی مہارت کے باعث عراق و ایران کے فاتح کہلائے ۔ عشرہ مبشرہ میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی عمر پچیس سال سے کم تھی جبکہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور حضرت سعید بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمریں تیس سال سے کم تھیں ۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے تو اطاعتِ مصطفیٰ ﷺکی انوکھی مثال قائم کی۔ آپ کی سہاگ رات تھی کہ نبی کریم ﷺکی طرف سے منادی نے جہاد کا اعلان کیا۔ آپ حالتِ جنابت میں اپنی دلہن کو چھوڑ کر جہاد کے لیے حاضر ہو گئے اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔ جنگ کے بعد جب جسم مبارک دیکھا گیا تو اس سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آقا ومولیٰ ﷺنے فرمایا:
”چونکہ حنظلہ پر غسل واجب تھا اور یہ میری اطاعت میں جہاد کے لیے آگئے اس لیے انہیں ملائکہ نے غسل دیا ہے۔ “ سبحان اللّٰہ!
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا جس کا ہے تو اک ٹوٹا ہوا تارا
۱۸۳۴ ء میں لارڈ میکالے نے کہا تھا: ”ہمیں ہندوستان میں ایک ایسی قوم پیدا کرنی ہے جو رنگ و روپ کے لحاظ سے مقامی مگر طرز فکر ، اخلاق اور ذوق وشوق کے لحاظ سے انگریز ہو۔“ یہ غیر مسلموں کی سازش کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک پر عملی طور پر اسلام کی بجائے اسلام دشمن نظام نافذ ہے۔ دن بدن مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ ستم یہ ہے کہ ذہین و عقلمند نوجوان اس سازش کا شکار ہوتے جارہے ہیں ، جن ہاتھوں کو قلم و کتاب پکڑنی تھی وہ ویڈیو فلمیں تھامے نظر آتے ہیں، جن زبانوں کو حمد و نعت کی لذتوں سے آشنا ہونا تھا وہ فحش گانوں اور لغو باتوں سے آلودہ ہیں ، جن آنکھوں میں شرم و حیا نے گھر کرنا تھا وہاں بے حیائی نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے، جن دلوں کو خوف خدا عز وجل اور عشقِ رسول ﷺسے لبریز ہونا تھا وہاں بدی اور منافقت قدم جمائے ہوئے ہے جن ذہنوں میں رضائے الٰہی اور رضائے مصطفیٰ ﷺ چاہنے کا سودا سمایا ہونا چاہیے تھا انہیں مغربی تہذیب اپنانے کی ہوس نے پوراگندہ کیا ہوا ہے ۔ اب نو جوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے باطل کی ہمنوائی اور طاغوت کی بندگی میں متاعِ حیات برباد کرنی ہے یا اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی اور آقا ﷺ کی غلامی میں زندگی کو سر مایَۂ آخرت بنانا ہے۔
مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی پیغام ہے:
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آج پھر دینِ حق کو جواں عزم اور بیباک جرأت رکھنے والے، جہدِ مسلسل اور سعیِ پیہم کرنے والے اور جان و مال اور وقت کی قربانیاں دینے والے نو جوانوں کی ضرورت ہے۔ ان میں قیادت کے اہل افراد بھی مطلوب ہیں اور مخلص اور مستعد کارکن بھی۔ اقامتِ دین کی جدو جہد میں حصہ لینا کسی کا دینِ حق پر احسان نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اپنے دین کی خدمت کے لیے ہزاروں لاکھوں میں سےتمہیں پسند کر لیا۔ تمہیں اپنی خوش بختی پر ناز کرنا چاہیے۔

