پیش لفظ:
بسم اللّٰه الرحمن الرحيم
والصلوة والسلام على حبيبه الكريم
ناز کیا اس پہ کہ بدلا ہے زمانے نے تجھے
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب میں نوجوان طبقہ نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ نو جوانوں میں کام کرنے کا جذبہ اور انقلاب لانے کی امنگ ہوتی ہے، یہ مضبوط عزم اور بلند حوصلہ ہوتے ہیں نیز فطری طور پر صلحِ کلیت اور مصلحت پرستی کی بیماریوں سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کی رگوں میں گرم خون اور جذبات میں سمندر کی سی طغیانی ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے جذبات اور ذہانت کی صحیح سمت میں رہنمائی کی جائے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں انہیں حالات کا رخ موڑ دینے، مشکلات جھیلنے ، وقت و مال اور جان کی قربانیاں دینے اور مسلسل جد وجہد کرنےکا حوصلہ دیتی ہیں اور وہ زبانِ حال سے یوں گویا ہوتے ہیں: خود اپنا راستہ آپ بناتے ہیں۔ اہلِ دل ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا عام مشاہدہ ہے کہ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ حق گوئی و بیباکی کے جذبات ماند پڑنے لگتے ہیں ، اہل و عیال اور روزگار کے علاوہ مصلحت کوشی اور آرام طلبی پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے، یونہی ذہنی صلاحیتیں بھی زوال پذیر ہوتی ہیں الا ماشاء اللّٰہ ۔ پھر نو جوانوں کے پاس اچھی صحت کے علاوہ فارغ وقت جیسی نعمت بھی ہوتی ہے اس لیے انہیں قیادت کا اہل سمجھا جاتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے جذبات کے بے لگام گھوڑے کو فرمانبردار بنا چکے ہوں ، بزرگوں کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے تجربات سے استفادہ کریں۔
اور آقا و مولیٰ ﷺکی اطاعت و غلامی کرتےہوئے دینِ حق کے سپاہی بن جائیں۔
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب
جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری
اسلامی انقلاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ فرعون جیسے ظالم و جابر حکمران کے خلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہنے والے چند نو جوان ہی تھے جنہوں نے مصائب و آلام کی پرواہ کیے بغیر حق کا پرچم بلند کیے رکھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
” تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں ہٹنے پر مجبور نہ کردیں۔ “ (یونس : ۸۳، کنز الایمان )
نبیِ کریم ﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کی اکثریت بھی نوجوانوں کی ہی تھی ۔ اولین ایمان لانے والوں میں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عمر ۳۷ یا ۳۸ سال جبکہ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کی عمریں ۳۰ سے ۳۲ سال کے درمیان تھیں ۔ دیگر چند اصحاب کے علاوہ باقی تمام صحابۂ کرام ۳۰ سال سے کم عمر والے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بااختلاف روایت آٹھ یا نو یا دس سال کی عمر میں ایمان لائے۔ رحیم و کریم آقا ﷺکی دعوت اسلام کے جواب میں آپ نے عرض کیا کہ میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں اور جسمانی لحاظ سے کمزور ہوں اس کے باوجود میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ غزوات اور جنگوں میں آپ نے شجاعت اور بہادری کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ حیدر کرار اور اسد اللّٰہ ( اللّٰہ کا شیر ) کے خطابات سے نوازے گئے۔

