Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 99 of 164

{وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّاوَارِدُھَاکَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا o ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَاجِثِیًّا}

’’اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گذر دوزخ پر نہ ہو۔ تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔ پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے‘‘۔ (پ16،مریم:71-72)

 

نعمتوں کی پُرسش:

ارشاد ہوا:

’’ پھر بیشک ضرور اُس دن تم سے نعمتوں کی پُرسش ہوگی‘‘۔

یعنی قیامت کے دن تم سے ان تمام نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو دنیا میں تمہیں دی گئیں کہ تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا تھا یا نہیں؟ ان نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا تھا؟ ان نعمتوں کا حق ادا کیا تھا یا نہیں؟

انسان کو رب تعالیٰ نے لاتعداد نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو دو قسم کی ہیں۔

 

ایک وہ جو خداداد ہیں:

یعنی اس میں بندے کی اپنی کوشش کو دخل نہیں۔ مثلاً زندگی، جسم ،دماغ، قوت، قابلیت، جوانی، صحت، وغیرہ۔ ان تمام نعمتوں کے متعلق سوال ہو گا کہ تم نے انہیں کس قسم کی کوششوں میں استعمال کیا تھا۔

 

دوسری قسم کی نعمتیں وہ ہیں کہ:

ان میں رب تعالیٰ کی عطا کے ساتھ بندوں کی اپنی کوشش و محنت کا بھی دخل ہے۔ مثلاً مال و دولت، گاڑیاں، بنگلے اور ہر قسم کی جائیداد وغیرہ۔ ایسی نعمتوں کے متعلق دو طرح کے سوالات ہونگے۔

ایک یہ کہ: ان چیزوں کو کن طریقوں سے حاصل کیا؟

اور دوسرا یہ کہ: انہیں کس طرح کے کاموں میں استعمال کیا؟

 

آقا ومولیٰ نے فرمایا:

’’قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کرلیا جائے گا۔

۱- زندگی کن کاموں میں گزاری؟

۲-جوانی کو کیسے کاموں میں گنوایا؟

۳- مال کن طریقوں سے حاصل کیا؟

۴- مال کو کہاں کہاں خرچ کیا؟

۵- جو علم سیکھا اس پر کتنا عمل کیا؟

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ مذکورہ دونوں قسم کی نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ! ہم سے کون سی نعمت کا سوال ہوگا، ہماری خوراک تو کھجوریں اور پانی ہے، دشمن ہمارے قریب ہے اور تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں پھر کس بات کا سوال ہو گا؟ فرمایا، ان چیزوں کے متعلق بھی پوچھا جائے گا۔ (ترمذی)

 

آپ ہی سے مروی ایک طویل حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

ایک دن نبی کریم ،  سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے ساتھ ایک انصاری صحابی کے گھر تشریف لے گئے۔ انہوں نے کھجوریں اور بکری کا گوشت کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا۔

پھر حضورنے ارشاد فرمایا:

اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!قیامت کے دن تم سے آج کی ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تم اپنے گھروں سے بھوکے نکلے تھے اور اب سَیر ہوکر واپس جارہے ہو۔

 

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود کا ارشاد ہے کہ:

امن اور صحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

 

حضرت مجاہد کا قول ہے کہ:

دنیا کی ہرلذت اور ہر نعمت کے متعلق پوچھا جائے گا۔

 

حضرت معاذ سے مروی ہے کہ:

مومن سے اس کے تمام کاموں کے متعلق پوچھا جائے گا یہاں تک کہ اس نے اپنی آنکھ میں جو سرمہ لگایا تھا، اس کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا (کہ اس کا ارادہ کیا تھا)۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ:

بدن، کان اور آنکھ کے متعلق سوال ہوگا کہ انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کیا؟

Share:
keyboard_arrow_up