ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
{اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا}
’’بیشک کان اور آنکھ اور دل، ان سب سے سوال ہونا ہے‘‘۔
(پ15،بنی اسرائیل:36)
یعنی ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ تم نے انہیں کن کاموں میں استعمال کیا۔
مذکورہ آیت میں ثُمَّ کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سوال و جواب جہنم کو دیکھنے کے بعد کیے جائیں گے اس لیے یہ سوال پلِ صراط پر ہونگے۔
ارشادِ ربانی ہے،
{وَقِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ}
’’اور انہیں ٹھہراؤ، ان سے پوچھنا ہے‘‘۔ (پ23،صفت:24)
اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ سوال پلِ صراط پر ہونگے جبکہ میدانِ حشر میں بھی سوال ہونگے جیسا کہ اوپر بخاری و مسلم کی حدیث میں مذکور ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ محشر میں بھی سوال ہونگے اور پلِ صراط پر جہنم کو دیکھنے کے بعد بھی۔
اور بعض اہلِ ایمان سے کسی بھی مقام پر کوئی سوال نہ ہوگا۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں رسولِ معظم نورِ مجسم ﷺ کا ارشادہے کہ:
’’میری امت کے ستّر ہزار افراد بلا حساب جنت میں جائیں گے‘‘۔
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ بِفَضْلِکَ وَبِحُرْمَۃِ حَبِیْبِکَا۔
رب تعالیٰ کی نعمتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر انسان ترقی کے جو دعوے کرتا ہے ان کی حقیقت صرف یہ ہے کہ اس نے قدرت کے سربستہ راز معلوم کر کے قدرت کی عطا کردہ چیزوں کو بہترین انداز میں اپنی خدمت کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
جو چیزیں بھی اس کی ترقی کا جزو ہیں وہ رب تعالیٰ ہی کی بنائی ہوئی ہیں۔ ہوا، پانی، آگ، مٹی،بارش، لوہا، دھاتیں، انسانی دماغ اور اس کی تمام صلاحیتیں، کیا کوئی ایک چیز بھی انسان کی اپنی تخلیق ہے؟؟
ہرگز نہیں۔ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی انسان کی اپنی تخلیق نہیں، نہ ہی یہ سب چیزیں کسی حادثے کے نتیجے میں ملی ہیں اور نہ ہی اتفاقاً اچانک خود بخود یہ تمام چیزیں معرضِ وجود میں آئی ہیں بلکہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللّٰہ تعالیٰ ہے۔
سورۃ الواقعہ میں خالقِ کائنات رب تعالیٰ فرماتا ہے،
{ءَاَنْتُمْ تَخْلِقُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ}
کیا تم اس (قطرہ)کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں؟
(پ27،واقعہ:59)
{ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ}
کیا تم اس (بیج)کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں؟ (پ27،واقعہ:64)
{ءَ اَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ}
کیا تم نے اسےبادل سے اتارا یا ہم ہیں اتارنے والے ؟(پ27،واقعہ:69)
رب تعالیٰ کا یہ بھی فرمانِ عالیشان ہے،
{وَسَخَّرَلَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ}
’’اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں، اپنے حکم سے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے‘‘۔ (پ25،جاثیہ:13)
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی کسی ایک نعمت کے سامنے انسان کی بڑی سے بڑی نیکی بھی کمتر اورہیچ ہے۔ نجات کے لیے ہم اس کے فضل و کرم کے محتاج ہیں۔
جانِ کائنات ﷺکا ارشاد ہے،
قیامت کے دن کوئی شخص اس قدر وزنی نیک اعمال لیکر آئے گا کہ ان کا وزن پہاڑ بھی نہ اٹھا سکے لیکن رب تعالیٰ کی عطا کردہ صرف ایک نعمت کی قیمت کے عوض یہ سب نیک اعمال ختم ہوجائیں گے، اگر اللّٰہ تعالیٰ فضل و کرم نہ فرمائے تو سب ہیچ ہے۔(الترغیب)
اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مرحلہ ان پر آسان ہوگا جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان زبان و دل سے اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ سب نعمتیں رب کریم ہی کی عطا کردہ ہیں۔

