حضرت ابراہیم کا یہ ارشاد مشعلِ راہ بنا لیجیے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا:
{الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَیَھْدِیْنِ o وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِo وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ}
’’وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہ مجھے راہ دے گا، اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، اور جب میں بیمار( ہوتا) ہوں تو وہی مجھے شِفا دیتا ہے‘‘۔ (پ19،شعراء:78-80)
زبان سے نعمت کا شکر ادا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ہرنعمت کے ملنے پر مثلاً کھانے پینے سے قبل اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اور پھر’’ الحمدُللّٰہ‘‘ کہہ کر یا مسنون دعائیں پڑھ کر رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ اتباعِ سنت کی برکت سے نعمت کی پرسش کا مرحلہ آسان ہوجائے گا۔
اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ:
جو نعمت رب تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے دی ہے اس کو اس کے احکام کے مطابق استعمال کیا جائے۔ پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم کو، مال کو اور اپنی تمام صلاحیتوں کو رب تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب رسول ﷺ کی اطاعت میں استعمال کرے اور زبان و دل سے بھی رب تعالیٰ کی حمد و ثناء اور شکر ادا کرتا رہے۔
رب کریم ہمیں اپنی نعمتوں سے مزید فیضیاب فرمائے اور ہمیں اپنی نعمتوں کا حق ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تفسیر سورۃ العصر سورۃ العصر مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں تین آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
’’اُس زمانۂ محبوب کی قسم !بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی‘‘۔
(کنزالایمان از امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)
لفظی ترجمہ:
وَ الْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَ فِیْ خُسْرٍ
قسم اُس زمانہ (کی) بیشک آدمی ضرور میں(ہے) نقصان
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا
مگر وہ جو ایمان لائے اور کام کیے اچھے اور باہم تاکید کی انہوں نے
بِ الْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِ الصَّبْرِ
(کے)ساتھ حق اور ایک دوسرے کو وصیت کی اُنہوں نے کی صبر
ربط ومناسبت:
پچھلی سورت میں مذکور تھا کہ انسان مال و دولت اور جاہ و منصب وغیرہ کو زندگی کا نصبُ العین سمجھ کر ان چیزوں کے حصول میں اپنی عمر کھپا دیتا ہے اور ان کے حصول کو کامیابی سمجھتا ہے حالانکہ ان حقیر و فانی چیزوں کی طلب میں اس بیش قیمت زندگی کو ضائع کردینا سراسر خسارہ ہے۔
اس سورت میں انسان کے مقصدِ تخلیق کو بیان کیا گیا ہے اور اسے خسارے سے بچنے کی چار شرائط بتا دی گئی ہیں۔
سورۃ التکاثر میں ان لوگوں کی کم عقلی اور نادانی کا تذکرہ تھا جو نفسانی خواہشات کی تکمیل میں زیادہ سے زیادہ دنیا جمع کرنے اور اس کی حقیر و فانی لذتوں میں ایسے مستغرق ہوجاتے ہیں کہ اپنے خالق و مالک کی بندگی کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔
اس سورت میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اپنی قیمتی زندگی کے ہر ہر لمحہ کی قدر کرو اور اسے رضائے الہٰی کے حصول کے لیے وقف کردو تاکہ خسارے سے بچ جاؤ۔
سابقہ سورت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی تھی جو مال و اسباب جمع کرنے کی حرص و ہوس اور سامانِ تعیش کے حصول میں آخرت سے غافل رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ قبروں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس سورت میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور حق کے داعی و مبلغ بنتے ہیں۔ یہی وہ خوش نصیب ہیں جو دنیا و آخرت میں نقصان سے محفوظ رہیں گے۔

