شانِ نزول:
حضرت ابو بکر صدیق کے اسلام قبول کرنے پر کلاہ بن اُسیدنے اُن سے کہا ، تم تو تجارت میں بہت ہوشیار تھے، تمہارا ہر کاروبار نفع والا ہوتا تھا پھر تم نے خسارے والا کام کیوں کیا کہ اسلام قبول کر کے امیروں کی دوستی کے بدلے چند غریبوں کی محبت اور کئی معبودوں کے بجائے ایک اللّٰہ کی عبادت پسند کی؟
آپ نے فرمایا ، مومن ہر گز نقصان میں نہیں رہتا ۔ آپ کی تائید میں یہ سورت نازل ہوئی۔(تفسیر عزیزی)
یہ مختصر سُورت اِنتہائی جامع مضامین پر مشتمل ہے۔ کامیابی اور ناکامی کا فلسفہ اس سورت میں بلکل واضح اور آسان انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔
امام شافعی علیہ ا لر حمۃ نے بہت خوب ارشاد فرمایا،
اگر لوگ اس سورت میں غور و فکر کرلیں تو انکی فلاح کے لیے یہ سورت ہی کافی ہے۔
صحا بہ کر ا م علیہمُ الرضوان اس سورت کو اس قدر اہمیت دیتے کہ:
جب دو صحابی آپس میں ملاقات کرتے تو جدا ہو نے سے قبل ایک صحابی یہ سو رت تلاوت کیا کرتے۔(طبر ا نی، شعب الایمان)
وَالْعَصْرِ کا مفہو م:
عصر کا معنی زما نہ ہے ۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہم کا ارشاد ہے،
اس سے مراد زمانے کی قسم ہے کیونکہ زمانہ اہلِ تدبر کے لیے نصیحت و عبرت کا ذریعہ ہے۔ عصر درمیانی نماز کا نام بھی ہے۔
آقا ومولیٰ ﷺنے ارشاد فرمایا:
جس کی نمازِ عصر فوت ہوگئی گویا اس کے گھر والے اور مال سب برباد ہوگئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے عصر سے محبو بِ کبر یاء ﷺ کا زمانہ مراد لیا ہے۔
اس بات کی تائید امام رازی رحمہ اللّٰہ کے اس قو ل سے ہو تی ہے کہ:
’’والعصر سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں محبو بِ خدا ﷺ جلو ہ فرماہیں۔
گویا اللّٰہ تعالیٰ فرما رہا ہے،
اے حبیب! تم ان میں موجود ہو اور انہیں دعوتِ حق دے رہے ہو اور یہ پھر بھی تمہاری دعوت قبول نہیں کر رہے، اس سے بڑھ کر ان کے لیے خسارہ اور ذلت کیا ہو سکتی ہے‘‘۔
علامہ محمود آلوسی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،
’’والعصر سے مر اد نبی کر یم ﷺ کے زمانۂ نبوت کی قسم ہے یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی حیا ت مبارکہ کے زما نے کی قسم ارشاد فرمائی کیونکہ وہ زمانہ تمام زمانوں سے افضل ہے ‘‘۔
شیخ عبد ا لحق محد ث د ہلو ی قدس سرہٗ نے بھی مدارج النبو ت میں یہی با ت ارشاد فرمائی ہے۔
امام ثعلبی رحمہ اللّٰہ نے لکھا ہے کہ
حضرت ابی بن کعب نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، یارسول اللّٰہ ﷺ !میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس سورت کی کیا تفسیر ہے؟
حضور ﷺ نے فرمایا:
والعصر سے مراد دن کا آخری حصہ ہے، ان الانسان لفی خسر سے مراد ابوجہل ہے، الا الذین اٰمنوا سے مراد ہیں ابوبکر، وعملوا الصٰلحٰت سے مراد عمر، وتواصوا بالحق سے مراد عثمان اور وتواصوا بالصبر سے مراد علی ہیں۔
شیخ التفسیر مولانا سید محمدنعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
عصر زما نے کو کہتے ہیں اور زمانہ چو نکہ عجائبات پر مشتمل ہے، اس میں احوال کا تغیر و تبد ل ناظر کے لیے عبرت کا سبب ہو تا ہے اور یہ چیز یں خا لق و حکیم کی قد رت و حکمت اور ا س کی وحدانیت پر دلالت کر تی ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ ز ما نہ کی قسم مراد ہو۔
ایک قو ل یہ بھی ہے کہ:
عصر سے نما ز عصر مر اد ہو سکتی ہے جو دن کی عبادتوں میں سب سے پچھلی عبادت ہے ۔
اور بہترین تفسیر وہی ہے جو امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہٗ نے ا ختیا ر فر ما ئی کہ:
زمانہ سے سید عالم ﷺ کا مخصوص زمانہ مراد ہے جو بڑی خیر و برکت کا زمانہ اور تمام زمانوں میں سب سے زیادہ فضیلت و شرف والا ہے ۔

