Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 103 of 164

اللّٰہ تعالیٰ نے حضور کے زمانۂ مبارک کی قسم یاد فرمائی جیسا کہ:ْ

لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ

(مجھے اس شہر کی قسم)

 

میں حضور  کے مسکن و مکان کی قسم یاد فرمائی۔

 

اور جیسا کہ:

لَعَمْرُکَ

(تمھا ری جان کی قسم)

میں آپ کی عمر مبارک کی قسم یاد فرمائی، اور

وَقِیْلِہٖ

(تمہارے قول کی قسم)

میں حضور کے کلام کی قسم ارشاد فرمائی،اور اس میں شانِ محبوبیت کا اظہار ہے۔

وہ خدا نے ہے مر تبہ تجھ کو د یا،

  نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا

کہ کلا م مجید نے کھا ئی شہا،

تیر ے شہر و کلا م و بقا کی قسم

 

 

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ:

زمانۂ محبوبکی قسم یاد فرمانے کے بعد ارشاد ہوا ،

’’بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ‘‘۔

اس جملے کی معنویت اچھی طرح سمجھنے کے لیے پہلے انسان کی حقیقت پر غور کیجیے کہ اسے کیوں پیدا کیا گیا ؟

 

انسان کے مقصدِ تخلیق کے بارے میں اللّٰہ تعالی کا ارشاد ہے:

 

{اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ}

’’تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں‘‘۔ (پ18،مومنون: 115 )

 

یعنی انسان کی تخلیق کا یقینا کوئی نہ کوئی مقصد ہے۔

 

پھر اس مقصدِ حیات کے بارے میں یوں راہنمائی فرمائی گئی،

{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا }

’’وہ (اللّٰہ ہے) جس نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ تمہاری جانچ (آزمائش) ہو کہ تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے‘‘ ۔ (پ29،ملک:2)

 

سورۃ الدھر کی ابتدائی آیات میں فرمایا گیا ،

 

{ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًاo اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا}

’’بیشک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اسکا نام بھی نہ تھا ، بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے کہ اسے جانچیں (یعنی آزمائیں) تو اسے سنتا دیکھتا کر دیا‘‘ ۔ (پ29،دھر:1-2)

 

ایک اور جگہ انسان کے مقصد تخلیق کو صاف لٖفظوں میں یوں بیان فرمایا گیا،

 

{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ}

’’اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لئے( اس لیے ہی) بنائے کہ میری بندگی کریں‘‘ ۔ (پ27،ذاریات:56)

 

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ:

اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق فرمایا، اسے علم حاصل کرنے کی صلاحیتیں عطا فرمائیں ، الہامی ہدایت کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام اور آسمانی کتب کے ذریعے ہدایت و گمراہی کے فرق کو واضح فرما دیا پھر انسان کو عقل و فہم کے ساتھ ساتھ ارادہ و عمل کی آزادی بھی عطا فرمائی تاکہ اسے آ زمایا جائے کہ یہ اللّٰہ کی بندگی کر کے اس امتحان میں کامیاب ہوتا ہے یا نفس و شیطان کی غلامی کر کے ناکامی و بربادی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے۔

 

دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ:

دنیا انسان کے لیے امتحان گاہ ہے اور زندگی وہ مدت ہے جو امتحان کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ انسان کو وہ قوتیں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں جن سے علم و شعور کی روشنی میں راہِ ہدایت پر گامزن رہ کر اس امتحان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ہر لمحہ جو گزر رہا ہے وہ امتحان کی مدت کو کم کرتا جا رہا ہے۔ اس امتحان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی مدت ہمیں معلوم نہیں۔ پس کسی بھی وقت موت کا فرشتہ آکر روح قبض کر لے گا اور یہ امتحان ختم ہو جائے گا۔

Share:
keyboard_arrow_up