ذرا تصور کیجئے کہ کچھ طلباء وہ ہیں جو ہر لمحہ اپنا امتحانی پرچہ حل کرنے میں مصروف ہیں اور بعض وہ ہیں جو وہاں غیر ضروری کاموں میں مشغول ہیں۔
امتحان کے نگراں کے اس اعلان کے باوجود کہ امتحان کا وقت کسی بھی لمحہ ختم ہو سکتا ہے ،وہ مسلسل کھیل کود اور غفلت میں مبتلا ہیں پھر اچانک امتحان ختم ہو جاتا ہے ۔ اہل عقل و فہم کے لیے نتیجہ بالکل واضح ہے کہ اس امتحان میں وہی طلباء کامیاب ہونگے جنہوں نے ہر لمحہ اپنا پرچہ حل کرنے میں صرف کیا اور غفلت میں مبتلا نہیں ہوئے۔
سورۃالعصر سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ:
زندگی کے اس امتحان میں ناکامی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایمان لائیں ، نیک کام کریں ، ایک دوسرے کو حق بات کی تاکید کریں اور صبر کی وصیت کرتے رہیں ۔ اس حقیقت پر زمانہ گواہ ہے کہ جنہوں نے ان اوصاف کو اپنایا وہ کامیاب ہوئے اور باقی سب ناکام و برباد ۔
خاص طور پر آقا مولیٰ ﷺ کا زمانۂ مبارکہ اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ جن لوگوں نے آپکی دعوتِ حق کو قبول کیا اور ان چاروں اوصاف کو اپنایا، وہ آسمان ہدایت کے درخشاں ستارے قرار پائے اور رب تعالیٰ نے انہیں اپنی رضا اور جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت دی اور جنہوں نے آپکی دعوتِ حق کو جھٹلایا وہ اپنی عزت و شہرت، مال و دولت، اور سرداری و لیڈری کے باوجود اس دنیا میں بھی ذلیل و برباد ہوئے اور آخرت میں بھی انکے لیے بربادی وعذاب ہے۔
سو ر ۃالعصر کی تفسیر میں امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ایک بزرگ کا قو ل ہے کہ:
میں نے سورۃ العصر کا مفہوم ایک برف بیچنے وا لے سے سمجھا جو یہ آواز لگا رہا تھا، ’’اس آدمی پر رحم کرو جس کا سر ما یہ پگھل ر ہا ہے، اس آدمی پر رحم کرو جس کا مال پگھل رہا ہے‘‘۔
یہ سن کر میں نے کہا،
{اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْر} کا یہی مفہوم ہے ۔
آدمی کی زندگی برف کے پگھلنے کی طر ح تیز ی سے کم ہو تی جا رہی ہے۔ اب جوشخص اپنی زندگی ضا ئع کر دے اور اس سے آخرت نہ کما ئے وہ ضرور نقصان میں ہے۔ یہ حقیقت ذہن نشین رکھیے کہ بر ف بیچنے والے کو کامیابی تو مسلسل کوششوں سے حاصل ہو گی لیکن ناکامی کے لیے اسے کچھ کر نے کی ضرورت نہیں کیو نکہ برف پگھل جانے سے نقصان خود بخود اسکا مقدر ہو جا ئے گا۔
یہی حال انسانی زندگی کا بھی ہے۔ وہ ہر لمحہ پگھلتی جارہی ہے ، ہر گزر نے والا دن زندگی سے ایک دن کم کر دیتا ہے مگر انسان کی نادانی دیکھیے کہ یہ زند گی سے ایک سال کم ہو نے پر اپنی سا لگر ہ منا کر خوش ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ مو ت کے مز ید قر یب ہو تا جاتا ہے۔
پس جس طر ح بر ف بیچنے والے کی کا میابی یہ ہے کہ وہ بر ف پگھلنے سے پہلے اسے بیچ کر ر قم کما لے، اسی طر ح انسان کی کامیابی یہ ہے کہ ا پنی عمر کو ختم ہو نے سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کی بند گی اور آ قا و مولیٰ ﷺ کی غلا می میں استعمال کر کے انکی رِضا حاصل کر لے ورنہ زند گی اسی طرح ختم ہو جا ئے گی اور انسان ناکام و برباد ہو جائے گا۔
اگر غور کیا جائے تو یہ نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ آدمی کا اصل سرمایہ وقت ہے۔ دنیا میں کچھ کمانے کے لیے بھی وقت چاہیے اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی۔ مزید یہ کہ آپ مال و دولت جمع کر سکتے ہیں اور اگر چاہیں توآپ کسی سے مال قرض بھی لے سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف وقت وہ دولت ہے جسے نہ تو جمع کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی سے قرض لیا جا سکتا ہے۔اگر آدمی وقت استعمال کرکے وہ چیزیں کمائے جو موت کے بعد کام نہ آسکیں تویہ نفع کا سودا نہ ہوا۔ وقت کا اصل مصرف یہ ہے کہ اسے استعمال کرکے فلاحِ دارَین حاصل کی جائے۔

