ارشادِ ربانی ہے،
{مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَاللّٰہِ بَاقٍ}
’’ جو تمہارے پاس ہے ہو چکے گا(ختم ہوجائے گا) اور جو اللّٰہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے‘‘۔ (پ14،نحل:96)
غیب بتا نے والے آقا ﷺ کا ارشاد ہے،
دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لو گ نقصان میں ہیں، و ہ ہیں: صحت و فراغت۔
یعنی صحت اور فار غ و قت وہ نعمتیں ہیں جن کی اکثر لو گ نا شکری کر تے ہیں اور انہیں یا تو بیکار کاموں میں ضائع کر تے ہیں یا بُرے کا مو ں میں برباد کر دیتے ہیں۔
مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
دن لَہو میں کھونا تجھے، شب صبح تک سو نا تجھے
شر مِ نبی خو فِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
رسول معظم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے،
پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو ۔
بڑھاپے سے پہلے جوا نی کو،
بیماری سے پہلے تندرستی کو،
فقیری سے پہلے امیری کو،
مشغولیت سے پہلے فرصت کو
اور موت سے پہلے زندگی کو ۔
فلاح و نقصان کا قرآنی تصور:
اس سورت میں انسان کے نقصان یا خسا رے میں ہو نے کا ذکر کیا گیا ہے۔
قرآن مجید میں یہ مفہوم مختلف الفاظ کے سا تھ پچاس سے زائد بار بیان ہوا ہے جبکہ اس کے مقابل قرآن حکیم نے اصطلاح کے طور پر ’’فلا ح‘‘کا ذ کر کیا ہے ۔
فلا ح کسی ادھوری کامیابی یا محض دنیاوی خوشحالی کا نام نہیں، بلکہ اس سے دنیا اور آخرت دونوں میں انسان کی حقیقی کا میابی مرادہے۔
لغتِ عر ب میں دنیا و آخر ت کی سا ری بھلا ئیوں اور کامیابیوں پر دلا لت کر نے والا فلا ح سے زیا دہ جا مع اور کو ئی لفظ نہیں ہے۔
اسی طرح نقصان،گھا ٹے یا خسُران کا تعلق بھی صر ف دنیاوی ناکامی یا جزوی نقصان سے نہیں بلکہ اس کا مفہوم بھی دنیا و آخرت دونوں میں انسا ن کی حقیقی ناکامی اور نقصان پر حاوی ہے۔
آپ لو گو ں سے پو چھیے کہ نقصان کیا ہے؟
جواب ملے گا ،تجارت میں نفع نہ ہونا نقصان ہے۔ کوئی کہے گا، شہر ت و اقتدار سے محروم ر ہنا نقصان ہے۔ کوئی بتا ئے گا، کار اور کو ٹھی نہ ملنا نقصان ہے۔ کوئی ا علیٰ منصب نہ ملنے کو نقصان بتا ئے گا، کوئی امتحان میں ناکامی کو نقصان کہے گا، اور کو ئی اپنی کسی خوا ہش کی تکمیل نہ ہونے کو نقصان قرار دے گا، غر ض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔
وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کو اپنی آ ج کی بہتری کی فکر تو ہے،مگر کل یعنی آخر ت کی فکر نہیں ۔ آئیے ہم اپنے خا لق و مالک عزوجل سے راہنمائی حاصل کر یں کہ فلاح اور نقصان کیا ہے نیز گھاٹا، خسارا یا نقصان پانے والے لو گ کون ہیں؟کیو نکہ اللّٰہ تعالیٰ سے زیا دہ سچی با ت کسی کی نہیں ہو سکتی ۔
وہ فرماتا ہے،
{اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ o وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَo اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ}
’’وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں، اور نماز قائم رکھیں، اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں ( خرچ کریں)۔ اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے پہلے اُترا، اور آخرت پر یقین رکھیں۔ وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے‘‘۔ (پ1،بقرہ:3-5)
ایسے ہی متعدد آیات میں نقصان پانے والوں کی علامات بیان ہوئیں۔ہم صرف دو آیات بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

