Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 106 of 164

{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَکَفَرُوْا بِاللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ}

’’اور وہ جو با طل پر یقین لا ئے اور اللّٰہ کے منکر ہو ئے ،وہی گھا ٹے میں ہیں‘‘۔ (پ20،عنکبوت:52)

جولوگ دنیا کی رنگینیو ں اور مال و دولت کے طلب گار ہو ئے اور فکرِ آخرت سے غافل ہو گئے، ان کا انجام بھی نقصان اور بربادی ہے۔

ارشاد ہو ا،

{مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَo اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْھَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ}

’’جو دنیا کی زند گی اور آرا ئش چا ہتا ہو،ہم اس میں انکا پو را پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے ۔یہ ہیں وہ جنکے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ ،اور اکا رت گیا جو کچھ وہاں کر تے تھے اور نا بو د ہو ئے جو اُنکے عمل تھے‘‘ ۔ (پ12،ھود:15-16)

 

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:

رسولُ اللّٰہ کی بتائی ہوئی تمام باتوں کی دل سے تصدیق کرنے اور ان پر پختہ یقین رکھنے کا نام ایمان ہے ۔یہ یقین اس قدر پختہ ہو کہ کوئی نظریہ، کوئی طاقت یا کوئی مصیبت اسے ہلا نہ سکے۔

سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات مذکور ہو چکیں جن میں ایمان اور اعمالِ صالحہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

 

ایک اورآیت ملاحظہ فرمائیں،

 

{لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ}

’’کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ ہے کہ ایمان لائے اللّٰہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر‘‘۔ (پ2،بقرہ:177)

 

اس کی تفسیر میں صدرُالافاضل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،ایمان کی تفصیل یہ ہے کہ:-

اول: اللّٰہ پر ایمان لائے کہ وہ حی و قیو م، علیم، حکیم، سمیع، بصیر، غنی، قدیر، ازلی ابدی واحد لا شریک لہٗ ہے (یعنی زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والا ، سب کچھ جاننے والا ، حکمت والا ، سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ،بے نیازاور قدرت والا، جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا،وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں )۔

دوم: قیامت پر ایمان لائے کہ وہ حق ہے، اس میں بندوں کا حساب ہوگا ۔ اعمال کی جزا دی جائے گی، انبیاء کرام اور مقبولان حق شفاعت کریں گے ، سید عالم سعادت مندوں کو حوض کوثر پر سیراب فرمائیں گے ، پل صراط پر گزر ہوگا اور اُس روز کے تمام احوال جو قرآن میں آئے یا سیدالانبیا نے بیان فرمائے، سب حق ہیں۔

سوم: فرشتوں پر ایمان لائے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق اور فرمانبردار بندے ہیں ۔ وہ مرد ہیں نہ عورت۔ ان کی تعداد اللّٰہ تعالیٰ جانتاہے ۔ چار فرشتے ان میں سے بہت مقرب ہیں جبرئیل ، میکائیل ، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام ۔

چہارم : کتب الٰہیہ پر ایمان لانا کہ جو کتاب اللّٰہ تعالیٰ نے نازل فرمائی، حق ہے۔ ان میں چار بڑی کتابیں ہیں ، توریت حضرت موسیٰ پر، انجیل حضرت عیسیٰ  پر، زبور حضرت داؤد پر ، اور قرآن حضرت محمد پر نازل ہوا، اور پچاس صحیفے حضرت شیث پر،  تین حضرت ادریس پر ، دس حضرت آدم پر اور دس حضرت ابراہیم علیہم السلام پرنازل ہوئے۔

پنجم: تمام انبیاء کرام پر ایمان لانا کہ وہ سب اللّٰہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اور معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں۔ ان کی صحیح تعداد اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں ، انبیاء کرام مرد ہوتے ہیں، کوئی عورت کبھی نبی نہیں ہوئی۔

Share:
keyboard_arrow_up