Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 107 of 164

ارشاد باری تعا لیٰ ہے:

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ}

’’اے ایمان والو! ایمان رکھو اللّٰہ اور اس کے رسول پر‘‘۔ (پ5،نساء:136)

 

اس آیت کی تفسیر میں صد رُ الافاضل فر ما تے ہیں،

اگر یہ خطاب مسلما نوں سے ہو تو اسکے معنی ہیں، ایمان پر ثابت قدم رہو۔

اگر یہ خطاب اہل کتاب سے ہو تو معنی یہ ہیں، ا ے بعض رسولوں پر ایمان لا نے والو! اللّٰہ اور اسکے رسول پر ایمان لے آؤ ۔

اور اگر خطاب منا فقین سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ اے ایمان کا ظاہری دعو یٰ کر نے والو! اخلاص کے سا تھ ایمان لے آئو۔

آقائے دوجہاں پر ایما ن لانے کا بنیا دی اور اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ ان سے سچی محبت کی جائے اور محبت کی علامت اطاعت ہے۔

نور مجسم کا ارشادِگرامی ہے،

’’تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اسکے والد ، اسکی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں‘‘۔

اس محبت کی دس شرائط و علامات ہیں جنہیں اس فقیر نے اپنی کتاب’’جما لِ مصطفی ‘‘میں تفصیل سے بیا ن کیا ہے،اہلِ ذوق حضرات ضرور ملا حظہ فرما ئیں۔

 

ایمان کے تقاضے:

قرآن حکیم نے ہر مو من کے لیے ایمان کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ بیان فرمایا ہے وہ یہ کہ:

جس کا آخرت پر اور آخرت میں رب تعالیٰ سے ملنے پر پختہ ایمان ہے اس کے لیے نمازوں کی پابندی کرنا ہر گز مشکل اور دشوار نہیں ہوتا۔

ارشاد ہوا ،

{وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ o اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَ اَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ}

’’ اور بے شک نماز ضرور بھاری ہے مگر اُن پر نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اس کی طرف پھرنا (ہے)‘‘۔ (پ1،بقرہ:45-46، کنز الایمان)

 

اب آپ خود فیصلہ کیجیے کہ ہمارا اللّٰہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان کس درجہ میں ہے ؟

نمازوں کی پابندی کرنا ہمارے لیے دشوار ہوتا ہے یا آسان؟

خاص طور پر فجر اور عشاء کی نمازیں جن کے متعلق آقا ئے دو جہاں کا فرمان ہے،

’’منافقوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی نماز بھاری نہیں۔ اگر جانتے کہ ان نمازوں میں کیا ثواب ہے تو زمین پر گھسٹتے ہوئے بھی نماز کیلئے آتے‘‘۔

ہماری شامتِ اعمال سے ہمارے معاشرے میں منافقانہ طرزِ عمل عام ہو گیا ہے جو کہ ایمان کی کمز و ری کی وا ضح علامت ہے۔ آپ دیکھ لیجیے اس دور میں مسلما ن مردار ، خنز یز اور ناپاک چیز یں نہیں کھا تے مگر رشوت، سود اور دیگر حرام کام نہیں چھوڑتے۔ 

اسی طرح عید کی نماز میں اسقدر اہتمام اور جو ش و خرو ش دیکھنے میں آ تا ہے کہ نما ز یو ں کو مساجد میں جگہ نہیں ملتی، سڑ کیں اور میدا ن بھی بھر جاتے ہیں لیکن یہ سارے نمازی عید ہی کے دن کسی دو سری نماز میں یا عام دنوں میں کسی نماز میں کیو ں نظر نہیں آتے ؟

حالانکہ عید کی نما ز واجب ہے جبکہ پا نچوں وقت کی نمازیں فرضِ عین ہیں۔

ہو نا تو یہ چا ہیے کہ فرا ئض کے لیے واجب سے زیا دہ اہتمام کیا جا ئے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہو نا اس بات کا ثبو ت ہے کہ ایمان کے کمز ور ہو جا نے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ اور اسکے حبیب کی اطا عت کا جذ بہ بھی کمزور ہو گیا ہے۔

پس حرام خوروں کے خنزیر، مردار غلا ظت اور نجس چیز یں نہ کھا نے کا سبب اطا عتِ الہٰی نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ طبعاً یہ چیزیں انہیں پسند نہیں۔

اسی طرح عید کی نماز کے لیے یہ سارا اہتمام بھی اطاعتِ الٰہی کے بجائے ایک تہوا ر منانا یا ایک رسم کو پورا کر نا ہی قرار پائے گا ۔

Share:
keyboard_arrow_up