وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ :
محبتِ رسول ﷺ کی بنیادی علا مت ہے، اطاعتِ رسول ﷺ، اور یہی اعمالِ صالحہ کی اصل روح ہے۔
جس طرح ایمان کا وہی دعویٰ معتبر سمجھا جاتا ہے جس کا ثبوت انسان نیک اعمال سے پیش کرے اسی طرح وہی اعمال صالح ہوتے ہیں جن کی بنیاد ایمان پر رکھی جاتی ہے یعنی بغیر ایمان کے اچھے کام انسان کو نقصان سے نہیں بچا سکتے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہوا،
{اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ}
’’یہ نبی مسلمانوں کا انکی جان سے زیادہ مالک ہے‘‘۔(پ21،احزاب:6)
صدرُ الافاضل مولا نا سیدنعیم الد ین رحمہ اللّٰہ اسکی تفسیر میں فرما تے ہیں،
دنیا اور دین کے تمام امور میں نبی کریم ﷺ کا حکم مسلمانوں پر نافذ، انکی اطاعت واجب اور انکے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب التر ک ہے۔
یا یہ معنی ہیں کہ نبی ﷺ مومنوں پر انکی جانو ں سے زیادہ رأفت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور نا فع تر ہیں۔
بخا ری و مسلم کی حدیث ہے،
سید عا لم ﷺ نے فرما یا، ’’میں ہر مو من کے لیے دنیا و آ خرت میں سب سے زیادہ اولیٰ ہوں، اگر چا ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔
فرمانِ الہٰی ہے،
{وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا}
’’اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، باز رہو‘‘۔ (پ28،حشر:7)
اللّٰہ تعالیٰ اور رسول معظم ﷺ پر ایمان لانے کا تقاضا یہی ہے کہ نیک اعمال کیے جائیں اور شریعت کے احکام پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔
ارشاد ِ باری ہے،
{یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌo فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاجَآءَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌo ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ}
’اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پہ نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور اگر اسکے بعد بھی بجلو پھسلو کہ تمھا رے پاس روشن حکم آچکے تو جان لو کہ اللہ زبر دست حکمت والا ہے ۔کا ہے کے انتظار میں ہیں شیطان کی فرما نبرداری کرنے والےمگر یہی کہ اللّٰہ کا عذاب آئے چھائے ہو ئے بادلوں میں اور عذاب والے فرشتے اتریں اور کام ہوچکے؟ اور سب کاموں کی رجوع اللّٰہ کی طرف ہے‘‘۔ (پ2،بقرہ:208-210)
شان نزو ل یہ ہے کہ:
اہلِ کتاب میں سے حضرت عبد اللّٰہ بن سلام اور انکے اصحاب ایمان لانے کے بعد شر یعت موسوی کے بعض احکام پر قائم رہے۔
ہفتہ کی تعظیم کرتے، اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پر ہیز کرتے ، یہ سوچ کر کہ یہ اسلام میں مباح ہیں ،ان کا انکار ضروری نہیں اور توریت میں ان سے بچنا لازم ہے اس لیے توریت پر بھی عمل ہو جائے گا اور یہ اسلام کی مخالفت بھی نہیں۔ اس پر یہ آیا ت نازل ہوئیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ تو ریت کی موافقت میں چند مباح چیزوں کو چھوڑنے پر جب اللّٰہ تعالیٰ نے یہ تنبیہ فرمائی تو اُن لوگوں کا کیا حال ہو گا جو نہ صرف اسلام کے فرائض و واجبات ترک کرتے ہیں بلکہ حرام کاموں کو اپنانے کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ اور ہنود کی مشا بہت و پیر وی کرنے پر اعلانیہ فخر بھی کرتے ہیں۔نعوذُ باللّٰہ
رحمت عالم ﷺ نے فرمایا،
منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گی۔
صحابہ کرام نے عرض کی، منکر کون ہے ؟
فرمایا ، جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہے۔ (بخاری)

