Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 109 of 164

ایمان، اعمالِ صالحہ اور حضورکی اطاعت لازم و ملزوم ہیں۔

 

ارشاد ہوا:

 

{فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا}

’’تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہونگے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں ،پھر جو کچھ تم حکم فرما دو، اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں‘‘۔ (پ5،نساء:65)

 

پس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نبی کریم کی غلامی کریں اور ان کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں اپنے دلوں میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں۔

وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ :

اس سورت میں نقصان سے بچنے والوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ ایک دوسرے کو حق بات کی وصیت کرتے ہیں۔

 

وصیت کا مفہوم ہے،

کسی کو خیر خواہی کے جذبے سے کسی کام کیلئے راغب کرنا یا مسلسل کسی کام کی تاکید کرتے رہنا۔ گویا نقصان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایمان لائے اور نیک اعمال کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی تبلیغ و تاکید کرتا رہے، اسے دینی اصطلاح میں’’ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ بھی کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

{کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہ}

 ’’تم بہتر ہو اُن سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ (پ4،ال عمران:110)

 

 

آقا و مولیٰ ﷺ  کا فرمانِ عالی شان ہے،

’’تم میں سے جو برائی ہوتی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ کی طاقت سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا نہایت کمزور درجہ ہے‘‘۔

 

دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ:

’’ اگر دل سے برا نہ جانے تو رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا‘‘۔

اب اس حدیث پاک کی روشنی میں اپنے ایمان کا جائزہ لیجئے کہ کیا ہم کسی برائی کو ہاتھ سے یا زبان سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں؟ با لفرض اگر مذکورہ دونوں درجے ہمیں حاصل نہیں توکیا ایمان کا نہایت کمزور درجہ ہمیں حاصل ہے یا ہم اس سے بھی محروم ہیں؟العیاذ با اللّٰہ تعالیٰ۔

 

جانِ کائنات حضورِ اکرم نے فرمایا:

اُس ذاتِ اقدس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ،ورنہ اللّٰہ تعالیٰ عنقریب تم پر اپنا عذاب نازل کرے گا پھر تم اس سے دعا کرو گے لیکن تمہاری دعا قبول نہ ہو گی۔ (ترمذی)

 

آقاو مولیٰ نے فرمایا:

اللّٰہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جب تک کہ ان کے ماحول میں گناہ رواج نہ پا جائیں اور عام لوگ قدرت کے باوجود گناہ نہ روکیں۔ جب ایسا ہو جائے تو اللّٰہ تعالیٰ سب لوگوں کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔

 

سید عالم نے فر ما یا،

لوگوں کے گناہوں کی کثر ت کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا، فلاں شہر کو اسکے باشندوں سمیت الٹ کر تباہ کردو۔عرض کی، الہٰی! ان لوگوں میں ایک ایسا بند ہ بھی ہے جو لمحہ بھر کے لیے بھی تیر ی یاد سے غا فل نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی اس نے نافرمانی کی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا، پہلے عذاب اُسی پر نازل کرو پھر دوسروں کو عذاب میں مبتلا کرو کیونکہ اس کے سامنے لوگ میری نافرمانیاں کرتے رہے لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے چہرے پر نا گواری کے آثار ظاہر نہ ہوئے (لہٰذا امر باالمعروف و نہی عن المنکرسے غفلت کی وجہ سے یہ بھی مستحقِ عذاب ہے)۔ (مشکوٰۃ)

Share:
keyboard_arrow_up