Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 110 of 164

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ:نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بقدرِ استطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے اور اسے ترک کرنا عذابِ الہٰی کا باعث ہے۔

 

وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ:

نقصان سے محفوظ رہنے والے خوش نصیبوں کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرتے ہیں۔

یعنی وہ ایمان لا کر تقویٰ کو اپنی زندگی کا شعار بناتے ہیں اور حق کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں پھر جب اس راہ میں دنیا پرستوں کی طرف سے مصائب و تکالیف کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ خود صبر کا پیکر بن جاتے ہیں بلکہ وہ دوسرے ایمان والوں کو بھی صبر کی وصیت کرتے رہتے ہیں اور ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہیں آتی۔ راہِ حق میں مصائب و مشکلات کا پیش آنا اور طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا ہونا ایک فطری عمل ہے کیونکہ جب حق کا کلمہ بلند کیا جاتا ہے تو باطل کو ضرور تکلیف ہوتی ہے اس لیے جب بھی نیکی کی دعوت دی جائے گی، شیطانی قوتیں فوراً مخالفت پر کمربستہ ہو جائیں گی۔

 

ارشاد ہوا:

 

{اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ}

’’کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی سی بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہو گی؟‘‘۔ (پ20،عنکبوت:2 ، کنز الایمان)

اللّٰہ تعالیٰ ایمان والوں کو ضرور آزماتا ہے کیونکہ آزمائش کے مراحل سے گزر کر ہی ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اور ان کے ایمانی دعوے کی تصدیق بھی ہوجاتی ہے۔

راہِ حق میں کڑوی باتوں اور ذلت آمیز طعنوں سے بھی آزمائش ہوتی ہے۔

 

ارشاد ہوا ،

 

{ لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ}

’’بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں، اور بیشک ضرورتم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے ۔اگر صبر کرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے‘‘۔ (پ4،ال عمران:186)

 

آج آپ دیکھ لیجیے کہ راہِ حق پر چلنے والوں کو مولوی اور ملا کہا جاتا ہے، کبھی بنیاد پرست اور بیک ورڈ قرار دیا جاتاہے اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اہلِ باطل، دین کی آڑ میں اہلِ حق کو مشرک اور بدعتی کہہ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

قرآنِ عظیم بتاتا ہے کہ یہ آزمائشیں نئی نہیں ہیں ،انبیاءِ کرام کو بھی راہِ حق میں بے شمار اذیتیں دی گئیں۔

 

حدیث شریف میں ہے،

آدمی کی آزمائش اسکے دین کے لحاظ سے ہوتی ہے، جو شخص اپنے دین میں مضبوط ہوتا ہے اسکی آزما ئش سخت ہوتی ہے۔

دراصل جب بندے کا ایمان پختہ ہوجاتا ہے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کو اپنا مقصود بنالیتا ہے، اپنے روز و شب اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کردیتا ہے اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب سے محبت کرتا ہے۔

پھر وہ دوسروں کے دلوں میں بھی اللّٰہ تعالیٰ اور رسول کی محبت کی شمع روشن کرتا ہے اور مصائب کی پرواہ کیے بغیر اس راہِ حق پر خود بھی قائم رہتاہےاور دوسروں کوبھی استقامت کی تاکید کرتا ہے۔

 

فلا ح والی تجارت:

فلاح و کامیابی قرآنی اصطلاح میں خسارے یا نقصان کی ضد ہے۔ چونکہ اکثر لوگ تجارت میں نفع نقصان سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہر کو ئی نفع والی تجا رت کرنا چاہتا ہے۔ نیز کو ئی عقلمند ایسا نہ ہو گا جو اپنے کاروبار میں نقصان یا خسارے کو پسند کرتا ہو، اس لیے فوزِ عظیم یعنی بڑی کامیا بی کو سمجھا نے کے لیے اللّٰہ تعا لیٰ نے ایمان اور اعمالِ صالحہ کی نفع والی تجا رت کا ذکر فرمایاہے ۔ 

Share:
keyboard_arrow_up