Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 111 of 164

ارشاد ہوا:

 

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍo تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ}

 ’’اے ایمان والو! کیا میں بتادوں وہ تجا رت جو تمہیں دردنا ک عذاب سے بچا لے، (وہ تجا رت یہ ہے کہ تم)ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر، اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو ،یہ تمہا رے لیے بہتر ہے اگر تم جا نو۔ (اس تجارت کا نفع یہ ہو گا کہ)وہ تمہا رے گنا ہ بخش دے گااور تمہیں باغوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رواں (ہیں) اور پاکیز ہ محلو ں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں ۔یہی بڑی کا میا بی ہے‘‘۔(پ28،صف:10-12) 

 

حضور کا ارشاد ہے،

ہر شخص صبح اٹھ کر اپنی زندگی کا سرمایہ (وقت)تجارت پر لگاتا ہے پھر کوئی اسے نقصان سے بچا لیتا ہے اور کوئی برباد کر ڈالتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن لو گوں کی تجا رت کا بھی ذکر فرما یا ہے جو آخرت کو چھو ڑ کر صرف دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔

 

ارشاد ہوا:

{اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْھُدٰی فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ }

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو اُن کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جا نتے ہی نہ تھے‘‘۔ (پ1،بقرہ16:)

 

جو شخص مضامینِ قرآن میں گہری نظر رکھتا ہو، اس کے لیے یہ سمجھنا ہر گز دشوار نہیں کہ سورۃ العصر میں مذکور چارصفات دراصل فلاح پانے والوں کی ان تمام صفات کا خلاصہ ہیں جو قرآن حکیم میں جابجا بیان ہوئی ہیں۔

رب کریم ہمیں ان صفات کو کامل طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ ایک صالح معاشرہ وجود میں آئے۔

اہلِ ذوق حضرات فقیرکی کتاب’’فلاحِ دارین‘‘ جو سورۃ العصر کی مفصل تفسیر ہے، ملاحظہ فرمائیں]

 

تفسیر سورۃ الھُمزۃ سورۃ الھمزۃ مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں نو آیات ہیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘

 

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﹰۙ (۱) الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ(۲) یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ(۳) كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ(۴) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ(۵) نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ(۶) الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـٕدَةِؕ(۷) اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ(۸) فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠(۹) 

’’خرابی ہے اُس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے۔ جس نے مال جوڑا اور گِن گِن کر رکھا۔ کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اُسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا؟ ہرگز نہیں۔ ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا۔ اور تو نے کیا جانا ، کیا ہے روندنے والی؟ اللہ کی آگ کہ بھڑک رہی ہے۔ وہ جو دلوں پر چڑھ جائے گی، بیشک وہ اُن پر بند کر دی جائے گی لمبے لمبے ستونوں میں‘ ‘۔

کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ 

Share:
keyboard_arrow_up