لفظی ترجمہ:
وَیْل لِّ کُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ
خرابی (ہے) کے لیے ہر عیب کرنے والے غیبت کرنے والے
الَّذِی جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَ ہٗ
(وہ) جس (نے) جمع کیا مال اور گِن گن کر رکھا اُسے
یَحْسَبُ اَنَّ مَالَ ہٗ اَخْلَدَ ہٗ
سمجھتا ہے وہ بیشک مال اُس (کا) ہمیشہ رکھے گا اُسے
کَلَّا لَ یُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ
ہرگز نہیں البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ میں روندنے والی
وَ مَآ اَدْرٰی کَ مَا الْحُطَمَۃُ
اور کیا جانا تُونے کیا (ہے) روندنے والی
نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ
آگ اللّٰہ (کی) بھڑکائی ہوئی
الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ
(وہ) جو چڑھ جائے گی پر اُن دلوں
اِنَّ ھَا عَلَیْ ھِمْ مُّؤْصَدَۃٌ
بیشک وہ پر ان بند کی ہوئی ہوگی
فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ
میں ستونوں لمبے لمبے
ربط و مناسبت:
سورۃ العصر میں بیان ہوا کہ ہر انسان نقصان اور خسارے میں ہے سوائے اُن کے جن میں مذکورہ چار اوصاف ہوں۔ جبکہ اس سورت میں شدید نقصان والوں کے چار عیب بیان کیے گئے ہیں، عیب جوئی، غیبت، مال کی حرص اور طویل امیدیں۔
سورۃ العصر میں مذکور تھا کہ مصطفی کریم ﷺ کا زمانہ گواہ ہے کہ مذکورہ چار اوصاف نہ اپنانے والے نقصان میں ہیں اور ایسا ہی ہوا۔
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ جو کافر یہ سمجھتے تھے کہ انکا مال انہیں ہمیشہ رکھے گا، رسول معظم ﷺ ہی کا زمانہ گواہ ہے کہ وہ لوگ مر کر ناکام و نامراد اور جہنمی ہوگئے۔
سابقہ سورت میں چار اوصاف نہ اپنانے والے ہر انسان کے لیے خسارے اور نقصان کا ذکر تھا جبکہ اس سورت میں خسارہ پانے والے ایک شخص کا بطور مثال تذکرہ ہے گویا یہ سورت، سورۃ العصرکے مضمون کی تشریح ہے۔
شانِ نزول:
بعض مفسرین کے نزدیک یہ سورت ان کفارِ مکہ کی مذمت میں نازل ہوئی جو رسولِ محتشم ﷺ کو طعنے دیتے، آپ کی عیب جوئی کرتے اور دیگر مسلمانوں کی عیب جوئی اور غیبت کرنا ان کا معمول تھا۔
ان کافروں میں ولید بن مغیرہ، اخنس بن شریق اور امیہ بن خلف شامل ہیں۔
دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ:
اس سورت میں بیان کردہ وعید ہر اُس شخص کے لیے ہے جو عیب جوئی اور طعنہ زنی کرے۔
وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃ:
’’وَیْل‘‘ کے معنی خرابی اور ہلاکت کے ہیں۔ ’’ھُمَزَۃ‘‘کا معنی ہے،’’ کسی شخص کو اس کے سامنے برا کہنے والا، بہت زیادہ طعنے دینے والا‘‘۔ اور ’’لُمَزَۃ‘‘کا معنی ہے، ’’بہت زیادہ عیب جوئی کرنے والا، کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنے والا‘‘۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کا ارشاد ہے،
’’یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو چغلیاں کرتے ہیں،دوستوں میں جدائی ڈالتے ہیں اور بے عیب لوگوں کی عیب جوئی کرتے ہیں‘‘۔
حضرت مقاتل رحمہ اللّٰہ کا قول ہے،
’’ ھُمَزَۃ‘‘ کے معنی سامنے برائی کرنے والا اور ’’لُمَزَۃ‘‘ کے معنی پیٹھ پیچھے برائی کرنے والا ہے ۔
اگرچہ اور بھی کئی اقوال ہیں لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ اور اکثر مترجمین نے مذکورہ بالا اقوال ہی کو ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔

