Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 113 of 164

طعنہ زنی اور غیبت و عیب جوئی کی مذمت میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ o یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنْ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْ کُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ}

’’اے ایمان والو! نہ مرد مردوں سے ہنسیں (یعنی مذاق نہ اُڑائیں) عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں، اور آپس میں طعنہ نہ کرو، اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو، کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا، اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے، اور عیب نہ ڈھونڈو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مَرے بھائی کا گوشت کھائے؟ تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا، اور اللّٰہ سے ڈرو، بیشک اللّٰہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘۔(پ26،حجرات:11-12)

 

طعنہ زنی ہر صورت میں گناہ ہے خواہ زبان سے ہو یا ہاتھ یا آنکھ کے اشارے سے۔ کسی کے سامنے طعنہ زنی اورعیب جوئی کرنے میں اس کی تذلیل بھی ہے اور دل آزاری بھی۔

 

آقا ومولیٰ کا ارشاد ہے،

اللّٰہ تعالیٰ کے بندوں میں بدترین لوگ وہ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں، دوستوں کے درمیان جدائی اور فساد ڈالتے ہیں اور بے عیب لوگوں میں عیب ڈھونڈتے ہیں۔

غیبت کو حدیث شریف میں زنا سے بدتر قرار دیا گیا ہے۔

 

نورِ مجسم رحمتِ عالم نے فرمایا:

غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق وہ بات کہو جو اسے بُری لگے۔ کسی نے عرض کی، اگر وہ برائی اس میں موجود ہو تو کیا اس کو بھی غیبت کہا جائے گا؟ فرمایا، ہاں! جبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ بہتان ہے(جو اور بڑا گناہ ہے)۔

غیبت، عیب جوئی اور طعنہ زنی اسلامی معاشرے میں بگاڑ کا بڑا سبب ہیں۔ اسی لیے رسولِ معظم نے ایمان والوں کو ان کبیرہ گناہوں سے بچنے کی بارہا تاکید فرمائی۔

 

آپ کا فرمانِ عالیشان ہے،

’’بدگمانی سے بچو، بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔ نہ کسی کی کمزوریاں ڈھونڈو اور نہ لوگوں کی عیب جوئی کرو۔ نہ ایک دوسرے سے حسد کرو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے لاتعلق رہو۔ اے اللّٰہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ‘‘۔

 

ایک اور موقع پر فرمایا،

مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے۔

پھر آقا ومولیٰ نے تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا، تقویٰ یہاں ہے۔ پھر فرمایا، انسان کے لیے یہ برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی ہر چیز حرام ہے، اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت۔

 

الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ:

ارشاد ہوا: ’’جس نے مال جوڑا اور گِن گِن کر رکھا‘‘۔

اس آیت میں کافروں کی تیسری بری خصلت کا ذکر ہے کہ وہ مال جمع کرنے کی حرص میں مبتلا تھے۔

اسلامی معاشرے کے اہم اوصاف میں باہم محبت واخلاص سے پیش آنا اور ضرورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا خاص اہمیت رکھتے ہیں۔اس کے برخلاف غیبت وعیب جوئی اور حرص و بخل معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔

ان آیات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کافروں میں موجود مذکورہ برائیوں کا سبب دراصل یہی تھا کہ وہ مالدار تھے اسی لیے وہ دولت کے نشے میں خود کو برتر اور دوسروں کو حقیر سمجھتے اور ان پر زبانِ طعن دراز کرتے تھے۔ مال و دولت کا نشہ انسان کو متکبر بنا دیتا ہے۔ خودکو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر خیال کرنا تکبر ہی کا حصہ ہے۔

آپ دیکھ لیجیے، کبھی کسی مفلس نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ نمرود و شداد ہوں یا فرعون و قارون، ابوجہل و ابولہب ہوں یا ولید بن مغیرہ و امیہ بن خلف، سب امیر و کبیر یا حاکم و رئیس تھے۔ اس لیے مال و دولت اور طاقت و اقتدار کے نشے میں حق کا انکار کرتے رہے اور ان کا تکبر انہیں لے ڈوبا۔ کسی کے مال نے اسے زندگی نہیں دی اور نہ ہی کسی کا مال اس کے ساتھ قبر میں گیا، پھر ایسی فانی و ناپائیدار چیز پر تکبر کیسا؟

Share:
keyboard_arrow_up