جَمَعَ مَالاً سے ایسے مال پرست لوگوں کی یہ ذہنیت واضح ہوتی ہے کہ وہ مالدار ہونے کے با وجود بہت کنجوس ہوتے ہیں۔ مال گِن گِن کر رکھتے ہیں مگر اسے غریب لوگوں کی بھلائی کے لیے خرچ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔
گِن گِن کر رکھنے کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ:
وہ صبح و شام مال جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرتے ہیں۔ مال سے مراد صرف روپیہ پیسہ نہیں ہوتا بلکہ مال سے مراد دنیا کا سارا مال و اسباب ہے۔
یہ بات سورۃ العادیات اور سورۃ التکاثر کی تشریح میں بیان ہوچکی کہ
مال بذاتِ خود کوئی بُری چیز نہیں ہے۔ اس لیے مال کا جائز طریقوں سے کمانا اور مال کو جمع کرنا کوئی مذموم بات نہیں ہے بشرطیکہ قرآن و سنت میں مذکور مال کے حقوق ادا کیے جائیں اور اس سے ایک دوسرے پر برتری جتانا مقصود نہ ہو۔
نیز مال کے حصول میں منہمک ہو کر بندہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کی فرمانبرداری سے غافل نہ ہوجائے۔
خسارا اور نقصان یہ ہے کہ مال و اسباب جمع کرنے کو ہی زندگی کا مقصود اور مطلوب بنا لیا جائے اور مال کی محبت میں برف کی طرح پگھلتی ہوئی زندگی کو ضائع کردیا جائے۔ ایسے شخص کو حدیث شریف میں ’’مال کا بندہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا:
’’دینار و درہم (یعنی مال و دولت) کے بندے ہلاک ہوجائیں کیونکہ یہ چیزیں اگر انہیں مل جاتی ہیں تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ ملیں تو ناراض رہتے ہیں‘‘۔
ایک اور حدیث شریف میں ارشاد ہوا:
’’دنیا مردا رہے اور اس کے طالب کُتے‘‘۔
اگرچہ کوّا بھی مردا رکھاتا ہے لیکن دنیا کو مردار اور اس کے طالب کو کُتے سے تشبیہ اس لیے دی گئی کہ دنیا پرستوں میں بھی وہی صفات پائی جاتی ہیں جو مردار کھانے والے کتوں میں پائی جاتی ہیں۔ آپ دیکھ لیجیے کہ کتا مردار اکیلے ہی کھاتا ہے خواہ وہ گائے وغیرہ بڑا جانور ہی کیوں نہ ہو بلکہ جب کوئی اور کتا اس کے ساتھ شریک ہونا چاہے تو وہ فوراً اس پر غرانا اور بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی حال دنیا پرست کا ہے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اور اس کی دنیا میں حصہ دار بنے، جبکہ کوّا مردار دیکھتے ہی کائیں کائیں کر کے اپنی برادری جمع کرلیتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ
کوّے کی خصلت یہ ہے کہ وہ دن ہی میں کھاتا ہے رات میں نہیں، جبکہ کتا مردار کو دن رات کھاتا ہے۔ آپ دیکھ لیجیے کہ مال و دولت کمانے کی ہوس دنیا پرست پر ایسی سوار ہوتی ہے کہ رات دن کماتا ہے، نہ دن کو سکون نہ رات کو آرام، ہر وقت دنیا جمع کرنے کی فکر اس پر مسلط رہتی ہے۔
تیسری بات یہ کہ:
کتا مرے ہوئے کتے کو بھی کھا لیتا ہے یعنی اپنے مردار بھائی کو بھی نہیں چھوڑتا جبکہ کوّا مردہ کوّے کو نہیں کھاتا۔ دنیا پرست کا حال دیکھ لیجیے، وہ بھی اپنے بھائیوں سے حسد کرتا ہے اور دنیا کمانے کی خاطر وہ مسلمان بھائیوں کو تو عموماً اور بعض اوقات سگے بھائیوں کو بھی دھوکا دینے سے باز نہیں رہتا۔
یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗ ٓاَخْلَدَہٗ:
پھر ارشاد ہوا: ’’کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اُسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا؟‘‘۔
یعنی جو مال جمع کرتا ہے اور اسے بار بار گِن کر خوش ہوتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ مال اس کے پاس رہے گا تو اسے موت نہیں آئے گی۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال کبھی ختم نہیں ہوگا، ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ہرگز نہیں۔ اگرچہ ہر آدمی جانتا ہے کہ ایک دن موت آنی ہے اور یہ مال پھر اس کے ساتھ نہیں رہے گا، پھر بھی وہ مال ایسے جمع کرتا ہے کہ گویا اس نے کبھی مرنا ہی نہیں۔ دراصل یہ انسان کی لمبی امیدوں اور موت سے اس کے غافل رہنے کی طرف اشارہ ہے۔

