بعض مفسرین کا قول ہے،
اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ حقیقت میں دائمی زندگی عطا کرنے والا مال نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح ہے۔
قرآن کریم بتاتا ہے کہ:
آخرت کی فلاح انہی کے لیے ہے جو آخرت کا نفع چاہتے ہیں۔
{مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَالَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ}
’’جو آخرت کی کھیتی چاہے، ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ، ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں‘‘۔ (پ25،شوری:20)
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے خطوط کے ذریعے ایک مربع شکل بنائی اور اس کے درمیان ایک لمبی لکیر کھینچی جو اس مربع سے کچھ باہر نکل گئی۔ پھر اس درمیانی لکیر کے دائیں بائیں کچھ چھوٹے خطوط کھینچے اور فرمایا، یہ درمیانی لکیر انسان ہے اور مربع کی شکل اس کی موت ہے جس نے اسے گھیرا ہوا ہے۔
یہ باہر کو نکلا ہوا خط اس کی آرزو ہے اور یہ چھوٹے خطوط اس کے مصائب و امراض ہیں۔ اگر وہ ایک مصیبت سے بچتا ہے تو دوسری آجاتی ہے اور دوسری سے بچتا ہے تو تیسری آ جاتی ہے (اس کی آرزو ختم نہیں ہوتی کہ اسے موت آجاتی ہے)
حضرت انَس سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ نے کچھ خطوط کھینچے اور فرمایا،
یہ انسان کی اُمید اور یہ اُس کی موت ہے۔وہ ان کےیعنی اُمیدوں درمیان ہی پھنسا رہتا ہے کہ قریبی خط سے اسے موت آجاتی ہے۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے،
جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اُسی قدر اس کی دو چیزیں بڑھتی جاتی ہیں یعنی مال کی محبت اور لمبی عمر کی خواہش۔
لمبی امیدوں میں گرفتار ہونا اور دنیاوی لذتوں میں غرق ہو کر آخرت کو بھلا دینا مسلمان کی شان کے لائق نہیں۔
کافروں کے طرزِ زندگی کے متعلق ارشاد ہوا:
{ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا وَیُلْھِھِمُ الْاَمَلُ}
’’انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور بَرتیں(فائدہ اٹھائیں)، اور امید انہیں کھیل میں ڈالے رکھے‘‘۔(پ13،حجر:3)
حضرت مولا علی نے فرمایا:
لمبی امیدیں آخرت کو بھلاتی ہیں اور خواہشات کی پیروی حق سے روکتی ہے۔
آپ کا یہ بھی حکمت بھرا ارشاد ہے،
دنیا پیٹھ پھیر کر چلی جانے والی اور آخرت ضرور پیش آنے والی ہے۔ ان دونوں کے بیٹے ہیں۔ تمہیں چاہیے کہ آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے بیٹے نہ بن جانا کیونکہ آج عمل ہے مگر حساب نہیں لیکن کل حساب ہوگا مگر عمل نہیں ہوگا۔
مال پرستوں کو اپنے جال میں پھانسنے کے شیطان کے تین طریقے ہیں۔ شیطان کہتا ہے کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کی بناء پر مالدار مجھ سے بچ نہیں سکتا۔ وہ ناجائز طور پر مال حاصل کرتاہے، اسے غلط کاموں میں خرچ کرتاہے، اور میں اس کے دل میں مال کی ایسی محبت ڈال دیتا ہوں کہ وہ مال کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ ناجائز مال کے حصول میں چوری، سود، رشوت، خیانت، جوا ، دھوکا وغیرہ آگئے۔
غلط خرچ میں شراب خوری، عیاشی، رقص و سرود اور فضول خرچی کی تمام صورتیں شامل ہو گئیں اور مال کے حقوق ادا نہ کرنے سے مراد زکوٰۃ و صدقات نہ دینا اور دینی و فلاحی امور میں خرچ نہ کرنا ہے۔یہ سب شیطانی کام ہیں۔
کَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ:
’’ہرگز نہیں۔ ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا‘‘۔
رب تعالیٰ نے دنیا اور مال جمع کرنے کی حرص و ہوس میں مستغرق غافل شخص کی غلط روش کی مذمت سخت انداز میں فرمائی۔ کَلَّا، ہرگز نہیں۔اس کی فکر اور سوچ باطل ہے۔ اس کا مال اسے حیاتِ جاوداں دے گا نہ ہی اسے جہنم کے عذاب سے بچائے گا۔ بلکہ اسے کسی حقیر و ناکارہ چیز کی طرح اٹھا کر ’’حطمۃ‘‘ میں پھینک دیا جائے گا۔

