Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 116 of 164

’’نبذ‘‘کے معنی ہیں کسی چیز کو حقیر سمجھتے ہوئے پھینک دینا، اور ’’حطمۃ‘‘کے معنی ہیں جو روند ڈالے، کچل دے اور پیس کر ریزہ ریزہ کردے۔

 

اب مفہوم یہ ہوگا کہ:

اس غافل و متکبر اور مال پرست کو جو مال و دولت کی وجہ سے خود کو معزز و برتر سمجھتا تھا اور لوگوں کی عیب جوئی، طعنہ زنی اور غیبت کر کے ان کی عزتِ نفس مجروح کرتا تھا، قیامت میں اس کو حقارت و ذلت کے ساتھ اٹھا کر ایسی آگ میں پھینک دیا جائے گا جو اس کو روند ڈالے گی اور چورا چورا کر دے گی۔ یہ آگ دنیا کی آگ کی مانند نہیں بلکہ یہ اللّٰہ تعالیٰ قہار و جبار کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ۔

 

غیب بتانے والے آقا ومولیٰ  نے ارشاد فرمایا:

جہنم کی آگ کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر اسے ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر اسے مزید ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیایہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی۔ پس اب وہ سیاہ اندھیری ہے۔

یہ بھی فرمایا،

تمہاری دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا ستّر واں حصہ ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ! یہ آگ ہی (عذاب کے لیے) کافی تھی۔ فرمایا، جہنم کی آگ تمہاری آگ سے اُنہتر درجہ زیادہ سخت گرم ہے۔

 

{فَاَمَّا مَنْ طَغٰی oوَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَاo فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰیo وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰیo فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی}

’’ تو وہ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے‘‘۔ (پ30،نازعات:37-41،)

 

آقائے دو جہاں نورِ مجسم کایہ فرمان ذیشان بھی مشعلِ راہ بنائیے۔

’’اے لوگو! انتہائی کوشش کے ذریعے جنت کے طالب بنو اور انتہائی کوشش کے ساتھ دوزخ سے بچنے کی فکر کرو۔ کیونکہ جنت ایسی چیز ہے جس کا چاہنے والا سو نہیں سکتا اور آگ بھی ایسی چیز ہے جس سے بھاگنے والا غافل نیں ہوسکتا۔ آخرت نا خوشگوار چیزوں سے گھیر دی گئی ہے اور دنیا لذتوں اور خواہشوں میں گھری ہوئی ہے پس دنیا کی لذتیں اور خواہشیں تم کو آخرت سے غافل نہ کردیں‘‘۔

 

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ :

اس آگ کی پہلی صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے۔

 

اور اب دوسری صفت یہ بیان ہوئی کہ:

وہ دلوں پر چڑھ جائے گی۔ دل کا ذکر کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی آگ جب انسانی جسم کو لگتی ہے تو دل تک پہنچنے سے پہلے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور دوزخ میں چونکہ موت نہیں آنی اس لیے یہ آگ دل تک زندگی کی حالت میں پہنچے گی اور دل کے جلنے کی اذیت انسان زندہ حالت میں محسوس کرے گا۔

 

حضورِ اکرم کا ارشاد ہے،

جہنم کی آگ جہنمیوں کو کھائے گی یہاں تک کہ جب دل تک پہنچے گی تو رک جائے گی پھر جہنمی اسی طرح ہوجائے گا جس طرح پہلے تھا۔ پھر آگ جلانا شروع کرے گی جب دل تک پہنچے گی تو پھر پہلے والا معاملہ ہوگا۔

دل کا ذکر کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بدن میں یہ سب سے لطیف جزو ہے اور سب سے زیادہ شدید درد اسی میں ہوتا ہے۔

 

اور تیسری وجہ یہ ہے کہ:

باطل عقائد اور برے اعمال کا سرچشمہ دل ہی ہے۔

قرآن کریم میں ہے،

{فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ}

’’ان کے دلوں میں بیماری ہے‘‘۔

(پ1،بقرہ:10)

 

{فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ}

’’تویہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔ (پ17،حج:46)

Share:
keyboard_arrow_up