Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 117 of 164

 مال کی حرص و ہوس، بخل ، تکبر، دوسروں کو حقیر سمجھنا، یہ سب دل ہی کے امراض ہیں اسی لیے جہنم کی آگ دلوں پر چڑھ جائے گی۔ عذاب کی شدت سے وہ موت چاہیں گے مگر موت نہ آئے گی۔

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ :

ارشاد ہوا: ’’بیشک وہ (آگ) اُن پر بند کر دی جائے گی لمبے لمبے ستونوں میں‘‘۔

 

مفسرین فرماتے ہیں:

ان منکروں کو ’’ حُطَمۃ‘‘میں ڈالا جائے گا تو آگ انہیں ہر طرف سے گھیر  لے گی اور پھر جہنم کے اس طبقہ کے دروازے کو لوہے کے ستو نوں سے بند کر دیا جائے گا تاکہ یہ کبھی باہر نہ آسکیں اور آگ ہمیشہ انہیں جلاتی رہے۔

 

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود فرماتے ہیں:

جب دوزخ میں وہ دوزخی رہ جائیں گے جنہوں نے ہمیشہ اس میں رہنا ہے تو انہیں لوہے کے تابوتوں میں بند کر کے ان میں لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان تابوتوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کر کے دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں پھینک دیا جائے گا اور کوئی کسی دوسرے کے عذاب کو نہیں دیکھ سکے گا۔

 

بعض کا قول ہے کہ:

حُطمۃ میں آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہونگے اور یہ تعداد میں اس قدر زیادہ ہوں گے کہ ان پر بند دروازے کی مثل ہو جائیں گے۔

 

ایک قول یہ بھی ہے کہ:

انہیں آگ کے لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا، نہ آگ ہلکی ہو گی اور نہ وہ عذاب سے بھاگ سکیں گے۔

فرمانِ الہٰی ہے،

 

{اِنَّہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَھَنَّمَ لَایَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی}

’’بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہو کر آئے تو ضرور اُس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے نہ جیے‘‘۔ (پ16،طہ:74)

 

تفسیر سورۃ الفیل سورۃ الفیل مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں پانچ آیات ہیں۔

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘

 

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ(۱) اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ(۲) وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ(۳) تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍﭪ(۴) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠(۵)

’’اے محبوب ا! کیا تم  نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا۔ کیا اُن کا داؤ تباہی میں نہ ڈالا۔ اور اُن پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) بھیجیں، کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے۔ تو اُنہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی (یعنی بھوسہ) ‘‘۔

(کنزالایمان ازامام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)

 

لفظی ترجمہ:

اَ لَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّ کَ بِ اَصْحٰبِ الْفِیْلِ

کیا نہ دیکھا تم نے کیسا کیا رب نےتمہارے ساتھ والوں (کے) ہاتھی

اَ لَمْ یَجْعَلْ کَیْدَ ھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ

کیا نہ کردیا اُس نے مکر اُن کا میں تباہی

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْ ھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ

اور بھیجے پر اُن پرندے جُھنڈ کے جھنڈ

تَرْمِیْ ھِمْ بِ حِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ

پھینکتے وہ اُن (پر) کے ساتھ پتھریاں سے کنکر

فَ جَعَلَ ھُمْ کَ عَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ

پس کردیا اُ س نے اُنہیں کی طرح بھوسے کھائے ہوئے

 

ربط و مناسبت:

سورۃ الھمزۃ میں بُرے لوگوں کا اُخروی انجام مذکور تھا ، اس سورت میں بُرے لوگوں کا دنیاوی انجام بیان ہوا۔ پچھلی سورت میں یہ بیان ہوا تھا کہ مذکورہ جرائم پر شدید عذاب ہوگا، اس سورت میں اصحابُ الفیل پر عذاب کے ذکر سے ثابت کیا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں بھی گرفت کرسکتا ہے اور آخرت میں بھی۔

Share:
keyboard_arrow_up