سابقہ سورت میں ان لوگوں کا اُخروی انجام بیان کیا گیا جو عیب جوئی، غیبت اور طعنہ زنی کے ذریعے رسولِ معظم ﷺ کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔
سورۃ الفیل میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس طرح بیتُ اللّٰہ کے خلاف ہاتھی والوں کی سازش نا کام ہوئی اور ان کو برباد کر دیا گیا۔
تم رسولُ اللّٰہ ﷺ کے خلاف سازشیں کرنا چھوڑ دو کہ جن کی شان و عظمت اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک بیتُ اللّٰہ سے بدرجہا زیادہ ہے ورنہ تم بھی برباد ہو جاؤ گے اور تمہارا کوئی نام لیوا بھی نہ ہوگا۔
سابقہ سورت میں کفار کا یہ باطل گمان بیان ہوا تھا کہ ان کا مال انہیں ہمیشہ رکھے گا اور انہیں موت سے بچا لے گا، اس سورت میں اصحابِ فیل کی تباہی کا حال بتا کر خبردار کر دیا گیا کہ جب ابرہہ کی دولت و حکومت اس کو تباہی سے نہ بچا سکی تو پھر جان لو کہ کسی کافرکی دولت و سرداری اسے خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔
شانِ نزول:
ابرہہ یمن کا عیسائی بادشاہ تھا۔ اس نے صنعاء میں ایک کلیسا (عبادت خانہ) بنوایا اور وہ چاہتا تھا کہ عرب کے لوگ آئندہ خانۂ کعبہ کے بجائے اس کلیسا کا حج اور طواف کیا کریں۔ عرب کے لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری۔ قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے موقع پا کر اس کلیسا میں قضائے حاجت کی اور اس کو نجاست سے آلودہ کردیا۔ اس پر ابرہہ کو بہت طیش آیا، اور اس نے خانۂ کعبہ کو ڈھانے کی قسم کھائی۔اس ناپاک ارادے سے وہ اپنا لشکر لے کر روانہ ہوا جس میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش رو ایک عظیم کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام محمود تھا۔ ابرہہ کے لشکر نے مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر مکہ والوں کے جانور قید کر لیے۔ ان میں دو سو اونٹ حضرت عبدالمطلب کے بھی تھے۔
حضرت عبدالمطلب ابرہہ کے پاس آئے تو ابرہہ نے ان کی بہت تعظیم کی اور ان کے آنے کا مقصد پوچھا۔ آپ نے فرمایا: میں اس لیے آیا ہوں کہ میرے اونٹ واپس کیے جائیں۔ ابرہہ نے کہا، مجھے بہت تعجب ہے کہ میں خانۂ کعبہ کو ڈھانے آیا ہوں اور وہ تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا معظم و محترم مقام ہے۔
تم اس کے لیے تو کچھ نہیں کہتے اور اپنے اونٹوں کے لیے کہتے ہو۔آپ نے فرمایا: میں اونٹوں کا مالک ہوں اس لیے ان کے لیے کہتا ہوں ، اور کعبہ کا مالک اللّٰہ تعالیٰ ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔
حضرت عبدالمطلب کو ابرہہ نے اونٹ واپس کر دیے۔ آپ نے آکر قریش کو حال سنایا اور مشورہ دیاکہ مکہ سے نکل کر پہاڑوں کی گھاٹیوں میں پناہ گزین ہوں۔ قریش نے ایسا ہی کیا۔ آپ خود خانۂ کعبہ میں گئے اور وہاں یہ دعا کی، اے اللّٰہ! ہر کوئی اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے، تو ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما۔ بیشک اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے، انہیں اپنی بستی کو اُجاڑنے سے روک دے۔ اس دعا کے بعد آپ بھی پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ اگلی صبح ابرہہ نے اپنی فوج کوحملہ کے لیے تیار کیا۔ اس نے اپنے دیوپیکر ہاتھی محمود کو اٹھانا چاہا مگر وہ نہ اٹھا اور کعبہ کی طرف نہ چلا۔ جب اس کا منہ دوسری طرف کیا جاتا تو وہ تیز چلنے لگتا لیکن جب اس کا رُخ مکہ کی طرف کیا جاتا تو وہ پھر بیٹھ جاتا۔
اسی دوران اللّٰہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے۔ ہر پرندے کے پاس تین تین کنکریاں تھیں۔ پرندے وہ کنکریاں گرانے لگے۔ جس شخص پر وہ کنکریاں گرتیں، اس کے آہنی خود کو توڑ کر سر سے ہوتی ہوئی، جسم کو چیر کر ہاتھی میں سے گزر کر زمین میں دھنس جاتیں۔اس طرح ابرہہ کا لشکر تباہ و بربادہوگیا۔
جس سال یہ واقعہ ہوا ،اسی سال اس واقعہ کے پچاس روز بعد سیدِ عالم حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔

