Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 119 of 164

اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ:

ارشاد ہوا: ’’اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا‘‘۔ (پ30،فیل:1، )

 

مفسرین فرماتے ہیں کہ:

اس آیت میں خطاب نبی کریم سے ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعہ تو نبی کریم کی ولادت مبارکہ سے پہلے کا ہے پھر ’’کیا تم نے نہ دیکھا‘‘ کیوں فرمایا گیا۔

 

ایک جواب یہ ہے کہ:

یہاں دیکھنے سے مراد رؤیتِ قلبی یعنی علم ہے۔ چونکہ یہ واقعہ تواتر سے ثابت اور عرب میں نہایت مشہور تھا اس لیے اس کا علم اتنا ہی یقینی ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھا ہے۔

 

دوسرا جواب یہ ہے کہ:

اگر اس کو رویتِ بصریہ یا مشاہدہ کے معنی میں لیا جائے تو بھی درست ہے۔

سورۃ العلق کی تفسیر میں احادیثِ مبارکہ پہلے مذکور ہو چکیں کہ نبی کریم کا نور سب سے پہلے تخلیق ہوا اور آپ کو نبوت اس وقت عطا ہوئی جبکہ آدم  روح اور جسم کے درمیان تھے۔ پس نورِ محمدی بارگاہِ الٰہیہ میں ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیات کے مشاہدے بھی کرتا رہا اور ساتھ ہی کائنات میں رونما ہونے والے واقعات بھی دیکھتا رہا۔

 

ایک قول یہ ہے کہ:

اس آیت میں حضور کے واسطے سے تمام قریش مخاطب ہیں۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم  نے اس واقعے پر غور نہیں کیا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟جس طرح تمہارے رب نے اپنے گھر کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا، ایسے ہی وہ اپنے محبوب رسول کے دشمنوں کو بھی تباہ و برباد کر سکتا ہے، پس تم اس سے عبرت حاصل کرو۔

 

ایک بصیرت افروز نکتہ یہ ہے کہ:

جب دو اشخاص میں مصاحبت ہوتی ہے تو کم درجہ والے شخص کو ’’صاحبِ اعلیٰ ‘‘کہا جاتا ہے کیونکہ عربی میں لفظ ’’اصحاب‘‘کی نسبت جس ہستی کی طرف کی جاتی ہے وہ ان اصحاب سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔

اسی لیے رسولِ معظم کی صحبت میں بیٹھنے والوں کو’’ اصحابِ رسول‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس سورت میں اصحابُ الفیل کے الفاظ یہ حقیقت واضح کر رہے ہیں کہ یہ لوگ انسانیت کے درجہ سے گر چکے تھے بلکہ حال اور درجہ میں ہاتھیوں سے بھی کمتر اور گھٹیا تھے۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ:

{بَلْ ھُمْ اَضَلُّ}

’’بلکہ یہ چوپایوں سے بڑ ھ کر گمراہ‘‘

 

سے بھی یہی مراد ہے۔ اس حقیقت کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ جب وہ ہاتھی کو کعبہ کی جانب چلانا چاہتے تو وہ بیٹھ جاتا اور جب دوسری جانب چلانا چاہتے تو وہ چلنے لگتا۔

 

اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ:

وہ ہاتھی ان سے بہتر تھا۔ اس آیت میں لفظ ’’رَبُّکَ‘‘  فرمانے میں لطیف رمز یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ آپ کی تشریف آوری اور عظمت کے اظہار کی خاطر کیا ہے، کیونکہ اسی سال جانِ کائنات رحمتِ عالم  عالمِ قدس سے عالمِ دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔

 

گویا اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے،

اے حبیب! میں تیرا رب ہوں۔ جب میں نے تیری آمد سے پہلے تیری عظمت کا خیال رکھا ہے تو تیرے ظہور کے بعد تیری ضرور ضرور مدد کروں گا اور تجھے باطل ادیان پر غلبہ عطا کروں گا۔

 

امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

مفہوم یہ ہے کہ اے حبیب! کعبہ تمہاری نمازوں کا قبلہ ہے اور تمہارا دل، تمہارے رب کی معرفت کا قبلہ ہے۔ جب میں نے تمہارے اعمال کے قبلہ کی دشمنوں سے حفاظت کی ہے تو تمہارے عقائد کے قبلہ کی دشمنوں سے حفاظت کیوں نہ کروں گا۔

کسی نبی سے بعثت سے قبل جو خلافِ عادت باتیں ظاہر ہوتی ہیں، انہیں اصطلاح میں اِرہاص کہتے ہیں۔حضور کی بعثت سے پہلے ایسے کئی معجزات (ارہاصات) ظاہر ہوئے،

مثلاً: بادل کا حضور پر سایہ کرنا،

پتھر کا حضور کو سلام کرنا،

اسی طرح ہاتھی والوں کا تباہ کیا جانا بھی امامُ الانبیاء کا ارہاص ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up