Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 120 of 164

علامہ قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں،

اس واقعہ کا پیش آنا حضور کے ظہور و بعثت سے قبل تمہید و مقدمہ کے طور پر تھا۔

 

اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُم:

ارشاد ہوا: ’’کیا اُن کا داؤ تباہی میں نہ ڈالا‘‘۔

یعنی کیا اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے مکر و فریب کو ناکام نہیں بنا دیا۔ لفظ ’’کید‘‘کے معنی خفیہ تدبیر اور پوشیدہ چال کے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابرہہ ساٹھ ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر آیا جبکہ مکہ مکرمہ کی کُل آبادی چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ پھر اس نے اعلان بھی کردیا کہ وہ خانۂ کعبہ کو گرانے کے لیے آیا ہے، اس کے باوجود اسے خفیہ تدبیر کیوں فرمایا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی خفیہ بات ضرور ایسی تھی جو کہ لوگوں پر ظاہر نہ تھی۔ ایک بات تو یہ ہے کہ وہ یہ چاہتا تھا کہ (معاذاللّٰہ) کعبہ کو گرانے کے بعد اس کا کلیسا کعبہ بن جائے ۔ اس طرح تمام عرب، یمن کی عیسائی حکومت کو اپنا مذہبی پیشوا تسلیم کرلیں گے اور پھر تمام عرب کے لوگوں کو عیسائی بنانا آسان ہوجائے گا۔

اس کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح نبی کریم کے ظہور سے پہلے ہی اسلام کے مقابلے میں عیسائیت ایک مسلح طاقت کے طور پر کھڑی ہوجاتی، جس کی پشت پناہ، حبش اور روم کی عیسائی حکومتیں ہوتیں۔

رسول معظم کی دعوتِ حق کو کامیاب بنانے کے لیے رب تعالیٰ نے ان کی چال کو خاک میں ملا دیا۔

 

دوسری بات یہ ہے کہ:

تمام تجارتی قافلے عرب سے گزر کر ہی شام اور مصر جاتے۔ خانۂ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے قریش کو عرب میں سرداری حاصل تھی اور وہ تجارتی قافلوں کے نگراں تھے۔ یہ بات عیسائیوں کو ناگوار تھی۔

یہ بات تحقیق طلب ہے کہ ابرہہ کے کلیسا کو کسی نے آلودہ کیا تھا یا نہیں، لیکن اسی پراپیگنڈے کی بنیاد پر اس نے کعبہ پر حملہ کا اعلان کیا جس کے پسِ پردہ اس کے مذموم مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تجارت میں عربوں کا عموماً اور قریش کا خصوصاً عمل دخل ختم کیا جائے۔ اس سازش کو رب تعالیٰ نے ناکام بنا کر عربوں پر خاص احسان کیا۔

وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا:

یہ بات پہلے مذکور ہوئی کہ ابرہہ کا لشکر اس قدر بڑا اور مسلح تھا کہ اگر مکہ اور اس کے تمام حلیف قبائل جمع ہوجاتے تب بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔

مزید یہ کہ اس میں جنگی ہاتھی بھی شامل تھے۔ ابرہہ کی جنگی حکمتِ عملی میں شکست کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت نے اس کی تمام چالوں کو ناکام بنا دیا۔

رب تعالیٰ نے اس کی چالوں کو اس طرح اکارت کیا کہ ان پر جوق در جوق چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے۔ عموماً اردو میں ایک خاص چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں۔ یہاں ابابیل سے وہ چڑیا مراد نہیں بلکہ عربی زبان میں ابابیل کا معنی ہے، کسی چیز کا مختلف ٹکڑیوں میں یکے بعد دیگرے آنا۔

 

ارشادِ باری ہوا:

’’اور اُن پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوج در فوج) بھیجیں، کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے‘‘۔ (پ30،فیل:2-3، )

ہر پرندے نے ایک کنکر اپنی چونچ میں اور ایک ایک کنکری اپنے دونوں پنجوں میں پکڑی ہوئی تھی اور ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس نے اس کنکری سے ہلاک ہونا تھا۔

کنکری کا حجم چنے یا مسور کے دانے کے برابر تھا۔ وہ عام پرندے نہیں تھے بلکہ ایک خاص قسم کے تھے۔ ان کی چونچیں پرندوں کی طرح اور ان کے پنجے کتوں کی طرح کے تھے۔

 

ایک قول یہ ہے کہ:

ان کے سر درندوں کے سروں جیسے تھے۔ وہ پرندے اچانک فوج درفوج نمودار ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں ابرہہ کے لشکر پر چھا گئے۔

پھر حکمِ الٰہی سے انہوں نے کنکریاں پھینکنا شروع کیں۔وہ کنکری جس سپاہی پر پڑتی، اس کے فولادی خود، آہنی زرہ کو چیرتی ہوئی، اس کے جسم سے پار ہوکر اس کی سواری کے جسم کو چھلنی کرتی ہوئی زمین میں دھنس جاتی۔ وہ کنکری جس پر پڑی، اس کے جسم پر پھوڑے نکل آئے اور ان سے پیپ اور خون بہنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا گوشت گل سڑ کر گرنے لگا۔

Share:
keyboard_arrow_up