فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ:
پھر فرمایا گیا، اس سنگ باری نے انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جانور جب بھوسہ کھاتا ہے تو کھاتے ہوئے اسے دانتوں سے مزید پیستا ہے اور پھر وہ معدے سے ہوکرآخر کار گوبر بن کر باہر نکلتاہے۔
اب مفہوم یہ ہوگا کہ:
جس طرح جانور کا کھایا ہوا بھوسہ گوبر کی صورت میں تباہ حال ہو جاتا ہے اسی طرح کی حالت اس لشکر کی ہوگئی تھی جس پر عذابِ الہٰی نازل ہوا۔ اس لشکر کا اکثر حصہ تو وہیں تباہ ہوگیا البتہ چند لوگ یمن پہنچنے میں کامیاب ہوئے ان میں ابرہہ بھی تھا۔ لیکن ان کی حالت بہت بری تھی۔
جسم پھوڑوں سے بھرے ہوئے، ان سے بہتی ہوئی بدبودار پیپ اور درد کی شدت سے زخمیوں کی آہ و پُکار۔ ان کا گوشت گلتا رہا یہاں تک کہ وہ سسک سسک کر مرگئے۔ گوشت گلنے سے ابرہہ کا سینہ پھٹ گیا اور وہ بھی تڑپ تڑپ کر مرا۔
ابرہہ سمیت ان لوگوں کے اپنے دارالحکومت زندہ پہنچ کر ایسی کربناک موت مرنے کی یہی حکمت سمجھ میں آتی ہے کہ رب تعالیٰ نے یہ چاہا کہ مکہ والے ہی نہیں بلکہ اہلِ یمن اور راستے والے بھی دیکھ لیں کہ اُس کے گھر کی بے ادبی کا ارادہ کرنے والے کس طرح اُس کے عذاب سے تباہ و برباد ہوتے ہیں۔
ابرہہ کے ہاتھی محمود کے دو ہاتھی بان، اندھے اور اپاہج ہو گئے اور بعد میں وہ مکہ میں بھیک مانگتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
میں نے ان دونوں کو اس حالت میں بھیک مانگتے دیکھا کہ وہ اندھے اور اپاہج تھے۔
ملحدین کا رَد :
اکثر ملحدین آسمانی عذابوں کا انکار کرتے ہیں۔
مثلاً : حضرت نوح کی قوم کے کافروں کو پانی میں غرق کردیا جانا،
فرعون کے لشکر کی سمندر میں ہلاکت،
قومِ عاد کو آندھی سے ہلاک کیا جانا،
حضرت لوط کی قوم پر پتھروں کی بارش،
نیز کسی قوم کو زلزلے سے اور کسی کو آگ برسا کر ہلاک کیا گیا۔
قرآن کریم میں ان تمام واقعات کو مختلف سورتوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ الاعراف، سورۃ ھود اور سورۃ الشعراء ملاحظہ فرمائیے۔
دہریے ان واقعات کو اتفاقی واقعات و حادثات یا کائناتی تبدیلیاں قرار دے کر ان کی بھونڈی تاویلیں کرتے ہیں۔
اصحابِ فیل کے واقعہ میں کوئی دہریہ کسی قسم کی تاویل نہیں کرسکا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ پرندے کنکر اٹھا کر کچھ لوگوں کو اس طرح ماریں کہ وہ انکے آرپار ہوجائیں۔
مزید یہ کہ:
اس واقعہ کا تاریخی طور پر انکار بھی ممکن نہیں۔ کیونکہ اس واقعہ کے سال ہی حضور ﷺ کی ولادت ہوئی اور اس کے چالیس سال بعد آپ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔
اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مکہ میں یہ سورت نازل ہوئی۔ اگر بالفرض ایسا کوئی واقعہ نہ ہوا ہوتا تو کفارِ مکہ ضرور اسے جھٹلاتے اور آسمان سر پر اٹھا لیتے، لیکن کسی کا انکار نہ کرنا ہمارے آقا ﷺ کی نبوت پر روشن دلیل ہے۔
دنیا پرستوں کا رد:
اس سے قبل سورۃ ھمزۃ میں بیان کیا گیا تھا کہ مال و دولت کی بارگاہِ الہٰی میں کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ یہی مال و دولت ہے، قیامت کے دن ان کو اٹھا کر’’ حُطمَہ‘‘ یعنی روندنے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا جو اُن کو چورا چورا کر دے گی۔
اس سورت میں بیان ہوا کہ:
طاقت و اقتدار کے نشہ میں مست لشکر جب اللّٰہ تعالیٰ کے گھر کو گرانے کی نیت سے آیا تو رب تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اس لشکر کو ایسے ریزہ ریزہ کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسہ ہوتا ہے۔
گویا سابقہ سورت میں مال و دولت کے نشہ کی وجہ سے حق سے منہ موڑنے والوں کو آخرت کے عذاب کی وعید سنائی گئی اور اس سورت میں طاقت و اقتدار کی وجہ سے زمین پر فرعون بن کر حق کی نشانی مٹانے کی ناپاک کوشش کرنے والوں کو دنیا ہی میں عذاب نازل فرما کر نیست و نابود کردیا گیا۔

