ان سورتوں کے ذریعے تمام انسانوں کو دعوتِ فکر دی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ کے مقابل مال و دولت اور طاقت و اقتدار کام آنے والی چیزیں نہیں ہیں۔
{لَا یُجَارُ عَلَیْہِ}
’’اللّٰہ کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا‘‘۔
کام آنے والی اصل چیز اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ پر ایمان اور ان کے احکامات کی پیروی ہے جو فلاح و نجات کا سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر سورۃ القریش سورۃ القریش مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں چار آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ(۱) اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ(۲) فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ(۳) الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْ عٍ ﳔ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠(۴)
’’اس لیے کہ قریش کو میل دلایا(یعنی مائل کیا)اُن کے جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ (سفر) میں میل دلایا، تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا‘‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ)
لفظی ترجمہ:
لِ اِیْلٰفِ قُرَیْشٍ
(کے)واسطے الفت دلانے قریش(کو)
اٖلٰفِ ھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِ
الفت دلانے اُن (کو) سفر (سے) سردی اور گرمی (کے)
فَ لْ یَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ
پس چاہیے کہ عبادت کریں وہ رب (کی) اس گھر(کے)
الَّذِیْ اَطْعَمَ ہُمْ مِّنْ جُوْعٍ
(وہ) جس (نے) کھلایا اُنہیں سے؍میں بھوک
وَّ اٰمَنَ ہُمْ مِّنْ خَوْفٍ
اور امن بخشا اُنہیں سے خوف
ربط ومناسبت:
سورۃ الفیل میں بیان ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قریش کے دشمن ہاتھی والوں کو ہلاک کر دیا جو خانۂ کعبہ کو گرانے آئے تھے۔
مزید یہ کہ ابرہہ کے زخمی سپاہی مکہ سے یمن تک راستے میں گر گر کر مرتے گئے، اس سے کعبہ کے بیتُ اللّٰہ ہونے پر عربوں کا ایمان اور مضبوط ہوگیا۔
اگرچہ پہلے بھی کعبہ کا متولی ہونے کی وجہ سے قریش کو نمایاں حیثیت حاصل تھی لیکن اس واقعہ کی وجہ سے عرب کے لوگوں میں قریش کی عزت و عظمت مزید بڑھ گئی۔
سورۃ القریش میں رب تعالیٰ نے قریش کو اپنی مزید دو اہم ترین نعمتیں یاد دلائی ہیں۔
ایک یہ کہ: اللّٰہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں دوسرے شہروں کی طرف تجارت کے لیے سفر کرنے کی رغبت پیدا کی جس کی وجہ سے وہ خوش حال ہوگئے۔
بیتُ اللّٰہ کے خادم اور متولی ہونے کی برکت سے انہیں عرب میں خاص عزت اور سرداری بھی حاصل تھی اور اسی کے باعث انہیں ہمیشہ امن حاصل رہا۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ:
یہ دونوں سورتیں مضمون کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ ربط و مناسبت رکھتی ہیں کیونکہ دونوں سورتوں میں رب تعالیٰ نے قریش پر خصوصی انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ:
تاریخِ اسلام میں قبیلۂ قریش کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ حبیبِ کبریا ء ﷺ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی اولاد سے کنانہ کو چن لیا اور بنو کنانہ سے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا۔ اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا‘‘۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کنانہ کے بیٹے نضر کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے قریش کے مورثِ اعلیٰ تک تیرہ پشتیں ہیں۔
حضرت محمدﷺ، عبداللّٰہ، عبدالمطلب، ہاشم، عبد مناف، قصی، کلاب، مُرہ، کعب، لوی، غالب، فہر، مالک، نضر۔
ان میں سے قصی بن کلاب نے قریش قبیلہ کے لوگوں کو جو پہلے پورے عرب میں منتشر تھے، مکہ مکرمہ میں یکجا کرکے آباد کیا۔

