قریش کا ایک اور اعزاز یہ ہے کہ وحیٔ الہٰی کے اولین مخاطب قریش ہی کے لوگ تھے اور انہی لوگوں کو اس دعوتِ حق کو دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
نیز قریش کے لوگ کعبہ شریف کے متولی تھے اور ایامِ حج میں حاجیوں کی خدمت کرتے تھے، اس بناء پر پورے عرب میں ان کی عزت کی جاتی تھی۔
حضرت جابر سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
لوگ خیر اور شر میں قریش کے تابع ہیں۔
اس ارشاد میں قریش کی قائدانہ استعداد کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کفر میں بھی راہنما تھے اور اسلام میں بھی پیشوا بنے۔قریش کے مومنوں کے لیے زیادہ اجر ہے کیونکہ ان کی تبلیغ و کوشش سے بعد والوں نے اسلام قبول کیا۔
اسی طرح ان کے کافر زیادہ عذاب میں ہونگے کیونکہ وہ بعد والوں کے لیے کفر کا ذریعہ بنے۔
غیب بتانے والے آقا کریم ﷺکا ارشاد ہے،
جو کوئی قریش کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا، اللّٰہ تعالیٰ اس کو ذلیل کر دے گا۔
رسولِ معظم ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے،
’’اللّٰہ تعالیٰ نے سات وجوہ سے قریش کو فضیلت دی ہے۔
1۔ میں قریش میں سے ہوں۔
2۔ نبوت ان میں ہے۔
3۔ کعبہ کی دربانی انہیں کے لیے مخصوص ہے۔
4۔ حاجیوں کو زمزم پلانے کی خدمت ان کے ذمہ ہے۔
5۔ اصحابِ فیل کے مقابل ان کی مدد کی گئی۔
6۔نبوت کے ابتدائی دس سال قریش کے سوا کسی اور نے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔
7۔ قریش کے متعلق ایک مستقل سورت نازل ہوئی یعنی سورۃ القریش‘‘۔
قریش پہلے افلاس اور معاشی تنگی میں رہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے پردادا عمر و بن عبدمناف نے جو غرباء پروری کی وجہ سے ہاشم کے لقب سے مشہور تھے اور اُس وقت قریش کے سردار تھے، اپنے قبیلے کے ہر خاندان کو تجارت کرنے کی ترغیب دی۔
اُس زمانہ میں تجارت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قتل و غارت اور لوٹ مار کا سلسلہ تھا جو عرب میں عام تھا۔ کوئی بھی مالِ تجارت لے کر ایک جگہ سے بحفاظت دوسری جگہ نہیں جا سکتا تھا۔ حضرت ہاشم کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کعبہ کے متولی ہونے کی بناء پر چونکہ انہیں خاص عزت حاصل ہے تو کیوں نہ عرب قبائل سے قریش کے تجارتی سفر کے لیے حفاظت و امن کا معاہدہ کیا جائے۔ جب آپ نے یہ تجویز پیش کی تو دیگر قبائل نے اسے بخوشی منظور کر لیا۔ یوں آپ کو عرب قبائل میں نمایاں مقام حاصل ہوگیا۔
اس کے بعد آپ نے قرب و جوار کی حکومتوں سے تجارتی مراعات حاصل کیں جن میں شام ، حبش، یمن، مصر، عراق، روم اور فارس کی حکومتیں شامل ہیں۔
اس طرح قریش کی تجارت تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی اور ہاشم اور ان کے بھائی تاجروں کی حیثیت سے مشہور ہوگئے۔ دیگر حکومتوں سے انہی روابط کی بناء پر انہیں ’’اصحابُ الایلاف‘‘ کہا گیا جس کے معنی ’’الفت پیدا کرنے والوں‘‘کے ہیں۔
’’ایلاف‘‘ کے معنی الفت، میل، شوق کے علاوہ معاہدہ اور ذمہ داری کے بھی ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’علماء کہتے ہیں کہ ایلاف سے مراد معاہدہ و ذمہ ہے۔ یہ معاہدہ سب سے پہلے قریش کے لیے ہاشم بن عبد مناف نے حکمرانوں سے کیا‘‘۔
غور کیا جائے تو معاہدہ بھی آپس میں الفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔
ایلاف کا مذکورہ مفہوم تفسیر البحر المحیط اور تفسیر روح المعانی میں بھی مذکور ہے۔
اٖلٰفِھِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ…:
’’لِاِیْلٰف‘‘ کے لام کے متعلق مفسرین فرماتے ہیں کہ
یہ لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق ’’فَلْیَعْبُدُوْا‘‘ سے ہے۔
تومفہوم یہ ہوگا کہ:
اگرچہ قریش پر رب تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں ہیں لیکن اگر کسی اور نعمت کی بناء پر نہیں تو اسی ایک نعمت کی وجہ سے کہ اس کے فضل و کرم سے وہ تجارتی سفروں کی طرف مائل ہوئے، انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں ۔

