امام ابن جریر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’صحیح بات یہ ہے کہ یہ لام تعجب کے معنی میں ہے‘‘۔
اب مفہوم یہ ہوگا کہ:
قریش کا رویہ بہت قابلِ تعجب ہے کہ ربِ کعبہ کے فضل و کرم سے وہ مکہ میں اکٹھے ہوئے، ان میں باہم الفت ویکجہتی پیدا ہوئی، انہیں خوشحالی اور امن ملا، ان کے دشمن ابرہہ کو تباہ کردیا گیا پھر بھی وہ ربِ کعبہ کی بندگی اور حبیبِ کبریاء ﷺ کی اطاعت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ:
ہم نے اہلِ مکہ سے ہاتھی والوں کو روک کر تباہ و برباد کر دیا تاکہ قریش اس امن والے شہر میں الفت اور یکجہتی سے زندگی گزاریں۔
مکہ مکرمہ ایسی خشک وادی ہے جہاں نہ زراعت ہے نہ باغات، اور سبزہ نہ ہونے کی بناء پر وہاں جانور بھی پالے نہیں جا سکتے۔
حضرت ابراہیم نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کو اس مقام پر چھوڑتے وقت یہ دعا فرمائی تھی،
{رَبَّنَا اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْہِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ}
’’اے میرے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی، تیرے حرمت والے گھر کے پاس۔اے میرے رب ! اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تُو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کر دے، اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے،شاید وہ احسان مانیں‘‘۔ (پ13،ابراہیم:37)
اس دعا کے طفیل اللّٰہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو امن کا گہوارہ بنا دیا اور وہاں رہنے والوں کو پھل بھی عطا فرمائے۔
پہلے ذکر ہوا کہ ابتدا میں قریش کی معیشت کا انحصار زائرینِ کعبہ کے نذرانوں پر ہوتا تھا۔ اس لیے بسا اوقات تنگدستی اور فاقوں تک نوبت جا پہنچتی۔
پھر ہاشم کی حکمتِ عملی کی وجہ سے قریش تجارت کی طرف مائل ہوئے۔ یہ سردیوں میں ملک یمن و حبشہ کی طرف تجارتی سفر کرتے اور وہاں سے ہندوستان اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی مصنوعات خرید کرمکہ آتے۔ پھر گرمیوں میں رومی سلطنت کے ٹھنڈے علاقے شام میں جاکر وہ چیزیں فروخت کرتے اور وہاں سے مغربی ممالک کی مصنوعات خرید کر انہیں یمن میں فروخت کرتے، اور جو منافع ہوتا اسے امیر و غریب سب برابر تقسیم کر لیتے۔
اس زمانہ میں تجارتی قافلوں کو لوٹ لینا معمول کی بات تھی۔مگر خانۂ کعبہ کی برکت سے عرب کے قبائل قریش کے تجارتی قافلوں سے محصول یا ٹیکس بھی وصول نہ کرتے اور ان کی حفاظت بھی کرتے۔
نیز یمن اور شام کے درمیان وسیع صحرا عبور کرنے کا حوصلہ رب تعالیٰ نے قریش ہی کو عطا کیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ مکہ عرب کا اہم تجارتی مرکز بن گیا اور قریش خوشحال ہوگئے۔
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ :
غور طلب بات یہ ہے کہ عرب کے جنگجو اور اکھڑ قبائل نے ہاشم کی محفوظ تجارت کے متعلق تجویز کیوں قبول کی؟گرد و نواح کی حکومتیں انہیں تجارتی مراعات دینے پر کیوں رضامند ہوئیں؟
ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ محض کعبۃُ اللّٰہ کے طفیل قریش کو یہ تمام نعمتیں حاصل ہوئیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں قریش کو یہی دعوتِ فکر دی ہے کہ تمہارے رب نے تمہارے دلوں کو تجارت کی طرف مائل کیا،میرے گھر سے نسبت اور تعلق کی وجہ سے عرب قبائل تمہارا احترام کرتے ہیں، اسی بناء پر دوسری حکومتوں نے تمہیں عزت کا مقام دیاہے، اس گھر کی دربانی کے سبب تمہارے قافلوں پر کوئی بری نگاہ نہیں ڈالتا، اور اس لق ودق صحرا میں دنیا بھر کی نعمتیں تمہیں میسر ہیں، تو جس گھر کے سبب تمہیں عزتیں و نعمتیں ملیں ہیں، اس گھرکے مالک کی بندگی کرنے لگ جاؤ۔

