Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 125 of 164

ارشاد ہوا:

’’تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا‘‘۔

بندوں کو چاہیے کہ وہ ہر نعمت کے حصول پر نعمت دینے والے رب کریم کا شکر ضرور ادا کریں خصوصاً دینی امور کے سبب عزت، شہرت، دولت یا کوئی اور نعمت ملے تو رب تعالیٰ کی بندگی کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔کیونکہ قرآنی تعلیم یہ ہے کہ شکر ادا کرنے پر رب تعالیٰ مزید عطا فرماتا ہے۔

قریش کا سردی و گرمی میں دور دراز کے تجارتی سفر کا خوگر ہونا اسلام کی ترقی کا سبب بنا۔  وہ اس طرح کہ وہ سفر کی صعوبت و مشقت جھیلنے کے عادی ہو چکے تھے اس لیے جہاد اور ہجرت کے سفر ان کے لیے مشکل نہ ہوئے۔ انہوں نے ایک سمت مصر اور اندلس تک اور دوسری طرف ترکستان اور سندھ تک اسلام کا پرچم بلند کردیا۔

 

الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ :

انسانی زندگی کے یہی دو مسائل اہم ترین بنیادی مسائل سمجھے جاتے ہیں۔ غذا اور امن۔

جانور بھی اپنے غذا دینے والے کی اطاعت کرتے ہیں، تو مشرکین جانوروں سے بھی بدتر ہوئے کہ ان عظیم نعمتوں کے با وجود اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔

{اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ}

’’کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین، پناہ بنائی اور ان کے آس پاس والے لوگ اُچک لیے جاتے ہیں۔ تو کیا باطل (یعنی بتوں) پر یقین لاتے ہیں اور اللّٰہ کی دی ہوئی نعمت (حضورپر ایمان لانے) سے نا شکری کرتے ہیں‘‘۔ (پ20،عنکبوت:67)

 

قرآن کریم کا پیغام یہی ہے کہ:

جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، وہ اسے دنیا اور آخرت میں امن و امان عطا فرماتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس سے امان چھین لیتا ہے۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

{وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ}

’’اور اللّٰہ نے کہاوت بیان فرمائی، ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی، ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللّٰہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی، تو اللّٰہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا، بدلہ اُن کے کیے کا‘‘۔ (پ14،نحل:112)

 

معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنا عذابِ الہٰی کا سبب ہے۔ اس کے برعکس اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور گناہوں سے سچی توبہ رب تعالیٰ کی نعمتوں کے نزول کا ذریعہ ہوتی ہے۔

 

حضرت ھود کا ارشاد ہے:

 

{وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ}

’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، وہ تم پر زور کا پانی (بارش) بھیجے گا اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے اور زیادہ دے گا، اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو‘‘۔ (پ13،ھود:52۔ )

 

ائمہ فرماتے ہیں،

دشمن کا خوف ہو یا کوئی اور مصیبت ، اس سورت کا پڑھنا حفاظت اور امان کا باعث ہے۔ (حصن حصین،تفسیر مظہری)

Share:
keyboard_arrow_up