تفسیر سورۃ الماعون سورۃ الماعون مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں سات آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔‘‘
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ(۱) فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ(۲) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ(۳) فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ(۶) وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠(۷)
’’بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے، پھر وہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا، تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھُولے بیٹھے ہیں، وہ جو دکھاوا کرتے ہیں اور برَتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے ‘‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
لفظی ترجمہ:
اَ رَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِ الدِّیْنِ
کیا دیکھا تم نے (اس کو) جو جھٹلاتا ہے کو دین
فَ ذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ
پھر وہ (وہ ہے) جو دھکے دیتا ہے یتیم (کو)
وَ لاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَام الْمِسْکِیْنِ
اور نہیں آمادہ کرتا وہ پر کھانا دینے مسکین (کو)
فَ فَوَیْلٌ لِّ الْمُصَلِّیْن
پس خرابی (ہے) واسطے نمازیوں (کے)
الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاۃِ ہِمْ سَاھُوْنَ
جو وہ سے نماز اپنی غافل (ہیں)
الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآءُوْنَ
وہ لوگ (کہ) وہ دکھاوا کرتے ہیں
وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ
اور جو منع کرتے ہیں برَتنے کی چیز (سے)
ربط ومناسبت:
سورۃ القریش میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کرنے کا حکم دیا تھا، اس سورت میں ان برائیوں کا ذکر ہے جو رب تعالیٰ کی بندگی میں رکاوٹ ہیں۔
ان برائیوں میں دو نشانیاں کافر کی ہیں۔
یتیم کو دھکے دینا۔
اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہ دینا۔
اور تین نشانیاں منافق کی ہیں۔
نماز سے غفلت،
اعمال میں دکھاوا
اور استعمال کی عام چیز کسی کے مانگنے پرنہ دینا۔
پچھلی سورت میں قریش پر انعامات کا ذکر ہوا۔ اور ان میں سے اکثر قیامت اور جزا و سزا پر ایمان نہ رکھتے تھے جبکہ اس سورت میں جزا و سزا کے منکروں کو رب تعالیٰ نے اپنے عذاب سے ڈرایا ہے۔ سابقہ سورت میں رب تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، اس سورت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو نماز پڑھنے میں سستی اور غفلت کا ارتکاب کرتے ہیں۔
سابقہ سورت میں قریش کو بھوک میں کھانا دینے کا ذکر تھا ، یہاں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔
شانِ نزول:
ابوجہل مردود کی عادت تھی کہ جب کوئی مالدار بیمار ہوتا تو وہ اس کے پاس آ کر بیٹھتا اور کہتا، تم اپنے یتیموں کو میرے سپرد کردو اور انکے حصے کا مال میرے پاس امانت رکھ دو۔ میں ان کی خبر گیری اور خدمت گزاری بخوبی کروں گا اور دوسرے وارث ان پر زیادتی نہیں کر سکیں گے۔ پھر جب ان کا مال اپنے قبضے میں لے لیتا تو ان یتیموں کو دھتکار دیتا اور وہ بیچارے دربدر بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتے۔
اسی طرح ایک دن ایک یتیم نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اُس ملعون کی شکایت کی۔ آپ اس ملعون کے پاس تشریف لے گئے اور اسے قیامت کے حساب و عذاب سے ڈرایا۔ اس نے آپ کی ایک نہ سنی بلکہ قیامت کو جھٹلایا۔ آپ رنجیدہ ہو کروہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔
اَرَءَیْتَ الَّذِیْ :
ارشاد ہوا: ’’بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے‘‘۔
’’اَرَءَ یْتَ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ
’’کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن کو جھٹلانے والا کون ہے؟‘‘۔ اگرچہ الفاظ سوالیہ انداز میں ہیں لیکن ان کا مقصد انتہا درجے کا تعجب ہے۔ یعنی اگر تم نہیں جانتے تو جان لو کہ’’ وہ، وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا‘‘۔

