Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 127 of 164

قرآنی اصطلاح میں’’الدین‘‘ سے مراد دینِ اسلام بھی ہے اور قیامت میں جزا و سزا بھی۔

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے پہلا معنی مراد لیا ہے۔ گویا مذکورہ بُرے اعمال ان لوگوں کے ہیں جو دینِ اسلام ہی کے منکر ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قیامت اور جزا و سزا کا انکار درحقیقت دین ہی کا انکار ہے۔ بعض نے کہا، یہ خطاب رسولِ معظم  سے ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ خطاب ہر عقلمند انسان کے لیے ہے۔

یعنی اے عقل والو!کیا تم اسے جانتے ہو جو روشن دلائل اور واضح براہین کے با وجود قیامت کو جھٹلاتا ہے اور عقلمند ہونے کا دعویدار بھی ہے؟

کسی عقلمند کے شایانِ شان نہیں کہ وہ دنیاوی لالچ کے بدلے خود کو آخرت کے عذاب میں مبتلا کرے اور یہ بھی عقل کے لائق نہیں کہ چند روزہ فانی زندگی کے بدلے میں آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کو قربان کر دیا جائے۔

 

اس آیت کے شانِ نزول کے حوالے سے اگرچہ بعض کافروں کا ذکر آیا ہے لیکن امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ:

یہ آیت ہر اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جو قیامت کو جھٹلاتا ہے۔ کیونکہ انسان کا رب تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور بُرے اعمال سے بچنا دراصل ثواب کے شوق اور عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بندہ قیامت کا منکر ہوگا تو وہ خواہشاتِ نفس اور دنیاوی لذتوں کو ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ ثابت ہوا کہ قیامت کا انکار ہر قسم کے کفر اور تمام گناہوں کی جڑ ہے۔

 

الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ:

اللّٰہ تعالیٰ نے دین کی تکذیب کرنے والے کے دو بُرے کام بیان فرمائے۔ ایک کا تعلق ’’کرنے‘‘سے ہے، یعنی ’’وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے‘‘۔

اور دوسرے کا تعلق :’’نہ کرنے‘‘ سے ہے، یعنی ’’وہ مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا‘‘۔

’’ فَذٰلِکَ‘‘ میں ’فا‘ سبب کے لیے ہے یعنی ان بُرے کاموں کا سبب اس کا کفر ہے۔ خدا کے بندوں پر ظلم کرنا اسی شخص کا معمول ہوسکتا ہے جس کا آخرت اور جزا و سزا پر یقین نہ ہو۔

’’یَدُعُّ‘‘ میں ’عین ‘پر تشدید سے واضح ہوتا ہے کہ یتیم کو دھکے دینا ان کا معمول ہے۔ بلاشبہ دین کے منکر ہی گناہوں پر اَڑے رہتے ہیں۔ یہاں یہ دو کام مثال کے طور پر بیان ہوئے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ قیامت کا منکر صرف انہی دو کاموں پر اکتفا نہیں کرتا۔ ان دو برائیوں کے پیچھے منکرینِ جزا و سزا کی گمراہ سوچ اور پورا شیطانی طرزِ زندگی چھپا ہے۔

یہ برائیاں اس لیے ذکر کی گئیں کہ یہ شریعت کے علاوہ انسانی مروت کے لحاظ سے بھی قابلِ نفرت ہیں اور ان کاموں کو وہی کرتا ہے جس کے رگ وپے میں مال کی شدید محبت رچی بسی ہوئی ہو، اسی لیے وہ یتیم کا مال کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔

 

ارشادِباری تعالیٰ ہے،

{بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ o وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ o وَتاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا o وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا }

’’بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے، اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے، اور میراث کا مال ہَپ ہَپ کھاتے ہو، اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ‘‘۔ (پ30،فجر:17-20)

 

جانِ کائنات رحمتِ عالم نے فرمایا:

جس نے مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے پاس رکھا اور اسے اپنے کھانے پینے میں شامل کیا، اللّٰہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا سوائے اس کے کہ اس کا کوئی گناہ قابلِ مغفرت نہ ہو۔ (ترمذی)

 

وَلَا یَحُضُّ عَلٰی:

مسکین وہ ہوتا ہے جو کھانے اور پہننے کے لیے مانگنے کا محتاج ہو۔رب تعالیٰ نے کھانے کی نسبت مسکین کی طرف فرمائی تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ کھانا اُس مسکین کا حق ہے اور اُسے کھانا دینے والا کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ اُسی کا حق اس کو دیتا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up