Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 128 of 164

{وَفِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ}

’’اور ان کے مالوں میں حق ہے منگتا اور بے نصیب کا‘‘۔(پ26،ذاریات:19)

منگتا وہ ہے جو اپنی حاجت کے لیے مانگے اور محروم وہ ہے جو حاجت مند ہو مگر حیا کے باعث سوال نہ کرے۔ تو جو شخص مالدار ہونے کے با وجود مسکین کو اس کا حق نہیں دیتا اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہے، اس کاطرزِ عمل اس کے بخیل، سنگ دل اور کمینہ ہونے کی علامت ہے۔

 

اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ

’’وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا

 

‘‘بلکہ ارشاد ہوا:

’’وہ مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا‘‘۔

جب وہ دوسرے کے مال میں بخل سے کام لے رہا ہے کہ وہ اپنا مال مسکین کے لیے خرچ نہ کریں تو وہ خود اپنے مال سے مسکین کو کیونکر کھلائے گا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخرت کا منکر ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کی صفات قرآن کریم میں یہ بیان ہوئیں ہیں کہ وہ خود بھی راہِ حق میں مشکلات پر صبر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں نیز وہ خود بھی مومنوں سے شفقت و مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی بات کی نصیحت کرتے ہیں۔

 

ارشاد ہوا:

{وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِoاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ}

’’اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں۔ یہ د ہنی طرف والے ہیں‘‘۔(پ30،بلد:17-18،)

 

نبی کریم کی خدمت میں سوال کیا گیا، اسلام میں کون سا عمل افضل ہے؟

آپ نے فرمایا:  تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں۔

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ:

پھر ارشاد ہوا: ’’تو اُن نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھُولے بیٹھے ہیں‘‘۔

’’اس سے مراد منافقین ہیں جو تنہائی میں نماز نہیں پڑھتے کیونکہ اس کے معتقد نہیں اور لوگوں کے سامنے نمازی بنتے ہیں اور اپنے آپ کو نمازی ظاہر کرتے ہیں اور دکھانے کے لیے اُٹھ بیٹھ لیتے ہیں‘‘۔

اس سورت کی ابتدائی آیات میں کفارِ مکہ کا ذکر تھا اب منافقینِ مدینہ کا حال بیان کیا جارہا ہے۔

 

اہلِ تفسیر نے لکھا ہے کہ:

اس سورت کی پہلی تین آیات مکہ میں اور آخری چار آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔ بے نمازیوں کے لیے یہ وعید پڑھیے۔

 

{فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُواالصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُواالشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا} 

’’تو اُن کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے‘‘۔ (پ16،مریم:59)

غیّ دوزخ کے نچلے حصے میں ایک کنواں ہے جس میں اہلِ دوزخ کی پیپ گرتی ہے۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ:

یہ جہنم کی سب سے زیادہ گرم اور گہری وادی ہے اور اس میں ایک کنواں ہے۔ جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے تو اللّٰہ عزوجل اس کنوئیں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔ یہ کنواں بے نمازیوں، زانیوں، شرابیوں، سودخوروں اور والدین کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔

قرآن کریم میں منافقوں کی ایک نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز پڑھنے میں سستی کرتے ہیں اور اسے بوجھ سمجھتے ہیں۔

 

ارشاد ہوا:

{وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی یُرَآءُ وْنَ النَّاسَ}

 ’’اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی (دل)سے، لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں‘‘۔ (پ5،نساء:142)

 

صدرُ الشریعہ فرماتے ہیں:

’’نماز کومطلقاً چھوڑ دینا تو سخت ہولناک بات ہے، نماز قضا کرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ فرماتا ہے،’’ خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں سے بے خبر ہیں، وقت گزار کر پڑھنے اٹھتے ہیں‘‘۔(پ30،ماعون:5)

Share:
keyboard_arrow_up