Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 129 of 164

جہنم میں ایک وادی ہے جس کی سختی سے جہنم بھی پناہ مانگتا ہے اس کا نام ’’ویل‘‘ ہے۔ قصداً نماز قضا کرنے والے اس کے مستحق ہیں‘‘۔ (بہارِ شریعت)

رسول کریم سے {عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاھُوْنَ} کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

اس کا مطلب ہے نماز کو ضائع کردینا۔

اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ آیت سے مراد نماز ضائع کردینا ہے خواہ نماز قصداً وقت پر نہ پڑھی جائے، یا دکھاوے کے لیے پڑھی جائے یا بے یقینی اور غفلت سے پڑھی جائے یا نماز کے فرائض و واجبات کو صحیح طریقے سے ادا نہ کیا جائے، ان تمام صورتوں میں نماز ضائع ہو جاتی ہے۔

پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کسی صحیح العقیدہ عالم سے نماز کاطریقہ اور ضروری مسائل سیکھے تاکہ نماز کی حفاظت ہو۔

الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآءُ وْن:

ارشاد ہوا: ’’وہ جو دکھاوا کرتے ہیں‘‘۔

اس سے مراد منافقین ہیں جو اور لوگ موجود ہوتے تو دکھاوے کی نماز پڑھ لیتے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو نہیں پڑھتے۔ ریاکار لوگوں پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اخلاص اور خشوع سے عبادت کرتا ہے حالانکہ اس کا دل اخلاص اور للّٰہیت سے خالی ہوتا ہے۔ ریاکار  عبادت کے بدلے لوگوں سے تعریف کا خواہشمند ہوتا ہے اور دنیاوی مفادات کا طلبگار رہتا ہے۔ چونکہ ریاکار کی عبادت اللّٰہ تعالیٰ کی بجائے لوگوں کو دکھانے کی خاطر ہوتی ہے اس لیے حدیث پاک میں ریا کو ’’شرکِ اصغر‘‘ کہا گیا ہے۔

ریا کا خیال شیطانی وسوسہ ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ نیت میں اخلاص پیدا کریں، ریا اور اخلاص پر آیات و احادیث کا مطالعہ کریں اور شیطان کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہیں۔

 

ایک حدیث میں ارشاد ہوا:

جہنم میں ایک ایسی وادی ہے جس سے خود جہنم روزانہ چارسو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ یہ وادی امتِ محمدیہ  کے ریاکاروں کے لیے ہے۔(طبرانی)

وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ:

ارشاد ہوا: ’’اور برَتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے‘‘۔

یعنی عام ضرورت کی معمولی چیز لوگوں کو استعمال کے لیے نہیں دیتے۔ اس کی تفسیر میں صحابہ کرام و تابعین کے دو قول ہیں۔

 

ایک یہ کہ ماعون سے مراد زکوٰۃ ہے:

کیونکہ ماعون کے اصل معنی تھوڑی چیز کے ہیں اور زکوٰۃ بھی مال کا تھوڑا سا حصہ ہوتا ہے۔

 

دوسرا قول یہ ہے کہ:

ماعون سے مراد عام استعمال کی ایسی چیزیں ہیں جو عموماً ایک دوسرے کو عاریۃً دی جاتی ہیں جیسے۔ ڈول، کلہاڑی، کھانے پکانے کے برتن ، پانی ، نمک وغیرہ۔

خلاصہ یہ کہ جس نمازی میں تین برائیاں ہو نگی اس کے لیے خرابی ہے۔

اول: وہ نماز سے غافل رہتا ہو، نہ وقت کا خیال نہ خشوع و  خضوع۔

دوم: نماز اخلاص سے خالی ہو اور لوگوں کو دکھانے کے لیے پڑھی جائے۔

سوم: نہ زکوٰۃ دے اور نہ لوگوں کو ضرورت کا معمولی سامان عاریۃً دے۔

Share:
keyboard_arrow_up