تفسیر سورۃ الکوثر سورۃ الکوثرمکہ میں نازل ہوئی اور اس میں تین آیات ہیں۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’ اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲) اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳)
’’اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھواور قربانی کرو۔ بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے‘‘۔
کنزالایمان ازاعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
لفظی ترجمہ:
اِنَّا اَعْطَیْنَا کَ الْکَوْثَرَ
بیشک ہم عطا کی ہم نے آپ (کو) خیرِکثیر یا کثیر خوبیاں
فَ صَلِّ لِ رَبِّ کَ وَ انْحَرْ
پس نماز پڑھیں لیے رب اپنے(کے) اور قربانی کریں
اِنَّ شَانِیَٔ کَ ہُوَ الْاَبْتَرُ
بیشک دشمن آپ (کا) وہی بے نسل ہے
ربط و مناسبت:
اس سے قبل سورۃ الماعون میں رب تعالیٰ نے منافقوں کی چار بری صفات بیان فرمائی تھیں۔
1۔ بخل، 2۔ نماز نہ پڑھنا، 3۔ ریاکاری 4۔ اور زکوٰۃ نہ دینا۔
اس سورت میں اس کے مقابل چار بہترین اوصاف کا ذکر ہے۔
بخل کے مقابل فرمایا گیا، ہم نے آپ کو بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں لہٰذا آپ بھی اپنے امتیوں کو کثرت سے نعمتیں عطا فرمائیے۔
منافقین کے نماز نہ پڑھنے کے مقابل ارشاد ہوا:
فَصَلِّ۔ یعنی ہمیشہ نماز پڑھتے رہیے۔
ریا کاری کے مقابل فرمایا
لِرَبِّکَ۔ یعنی لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ صرف اپنے رب کی رضا کی خاطر نماز پڑھیے۔
یوں ہی زکوٰۃنہ دینے کے مقابل فرمایا،
وَانْحَرْ۔ یعنی قربانی کرکے اس کا گوشت رضائے الہٰی کی خاطر دوسروں کو دیجیے۔
آخری آیت سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ وہ منافق لوگ جن میں چار بری خصلتیں ہیں وہ ہر خیر سے محروم ہیں اور مرنے کے بعد ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے گا جبکہ آپ ﷺ کو خیرِ کثیر کا سمندر عطا ہوا ہے اور آپ کے متبعین بھی خوش نصیب ہیں جو اس خیرِ کثیر سے فیض یاب ہوتے رہیں گے اور آپ ﷺ کا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا۔
شانِ نزول:
مفسرین فرماتے ہیں کہ جس شخص کا بیٹا نہ ہوتا، اہلِ عرب اُسے اَبْتَرْ (یعنی جس کی نسل ختم ہو جائے)کہا کرتے۔
جب حضرت قاسم (علیٰ ابیہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کے وصال کے بعد نبی کریم ﷺ کے دوسرے صاحبزادے حضرت عبداللّٰہ (علیٰ ابیہ وعلیہ الصلوٰۃ والسلام)کا انتقال ہوا تو ابولہب نے کہا،’’ آج محمد کی نسل منقطع ہو گئی ہے‘‘۔
عاص بن وائل نے بھی کہا،
’’ان کا کوئی بیٹا نہیں جو ان کا جانشین ہو، جب ان کا انتقال ہو گا تو ان کا ذکر ختم ہو جائے گا‘‘۔
اور بھی کئی کافر اسی قسم کے دل آزار جملے کہا کرتے۔ ان حالات میں رب تعالیٰ نے یہ سورہ مبارکہ نازل فرما کر اپنے محبوب رسول ﷺ کو تسلی دی کہ اے حبیب! ہم نے تمہیں کثیر نعمتیں اور بیشمار خوبیاں عطا کی ہیں۔ نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے تمہیں طعنے دینے والے اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ نہ صرف تمہاری نسبی اولاد دنیا میں رہے گی بلکہ تمہارے نام لیوا، عاشق اور غلام اس قدر کثیر تعداد میں دنیا میں ہونگے کہ زمین کے ہرہر گوشے میں تمہارے ذکر کی محافل سجائیں گے، اور صبح و شام تمہاری بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے پیش کیا کریں گے۔اے محبوب! میں تیرا ذکر بلند کردوں گا اور ان کا نام نشان مٹا دوں گا جو تجھ سے عداوت رکھتے ہیں۔
محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
کوثر کے معانی:
’’کوثر‘‘ کثرت سے ماخوذ ہے جس میں بہت زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے۔اس بناء پر کوثر سے مراد ہے کسی چیز کا اس قدر کثیر و زیادہ ہونا کہ جس کا اندازہ لگانا ممکن نہ ہو۔
گویا مفہوم یہ ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ لبیب ﷺ کو جو نعمت و کمال عطا فرمایا، وہ بے حد و بے حساب عطا فرمایا۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے کوثر کی تفسیر میں فرمایا،
کوثر وہ خیرِ کثیر (یعنی بیشمار بھلائیاں اور خوبیاں)ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہیں۔
حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا گیا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوثر سے مراد جنت کی ایک نہر ہے۔ انہوں نے جواب دیا، جنت کی وہ نہر جس کا نام کوثر ہے، وہ بھی اسی خیر کثیر میں داخل ہے۔

