Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 131 of 164

مشہور تابعین حضرت مجاہد  اور حضرت حسن بصری نے بھی کوثر کی تفسیر میں فرمایا،

اس سے مراد دنیا و آخرت کی خیر کثیر ہے اور اس میں جنت کی نہر کوثر اور حوضِ کوثر بھی داخل ہیں۔

 

امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

کافروں نے مختلف الفاظ سے نبی کریم ﷺ  کو برا کہا لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی تعریف فرمائی جس میں تمام فضائل داخل ہیں۔ لفظ ’’کوثر‘‘ کے ساتھ کسی قید کا اضافہ نہیں کیا کہ فلاں شے میں کثرت ہے اور فلاں میں نہیں۔ لہٰذا اس میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں شامل ہیں۔

ان تفاسیر کی روشنی میں مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنے ترجمۂ قرآن میں کوثر کا ترجمہ ’’بیشمار خوبیاں‘‘ فرمایا ہے۔

 

صدرُ الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں،

’’اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ  کوفضائلِ کثیرہ عنایت کر کے تمام مخلوق پر افضل کیا۔ حسنِ ظاہر بھی دیا حسنِ باطن بھی، نسبِ عالی بھی نبوت بھی، کتاب بھی حکمت بھی، علم بھی شفاعت بھی، حوضِ کوثر بھی مقامِ محمود بھی، کثرتِ امت بھی اعدائے دین پر غلبہ بھی، کثرتِ فتوح بھی اور بیشمار نعمتیں اور فضیلتیں بھی جن کی انتہا نہیں‘‘۔

 

حضرت انس سے روایت ہے کہ:

ایک دن آقا و مولیٰ ﷺ  ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ آپ پر اچانک نزولِ وحی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا۔ ہم نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ! آپ کے مسکرانے کا سبب کیا ہے؟ فرمایا، ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔

پھر آپ نے سورۃ الکوثر تلاوت کی اور فرمایا،کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کی، اللّٰہ اور اس کا رسول ﷺ  ہی بہتر جانتے ہیں۔ 

آپ نے فرمایا:  ’’ یہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ اس میں خیر کثیر ہے اور وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت آئے گی۔اس کے کناروں پر پینے کے برتن اس قدر ہونگے جتنے آسمان کے ستارے‘‘۔

 

حضرت ثوبان اور حضرت ابوذر سے مروی احادیث میں ہے کہ:

اس حوض میں جنت سے دو پر نالے گر رہے ہونگے۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل)

 

تفاسیر میں ہے،

حوض کوثر کو  یہی دو پر نالے نہر کوثر کے پانی سے بھر دیں گے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لفظ کوثر کی جامع تفسیر ’’خیرکثیر‘‘ ہے اور اس خیر کثیر میں وہ حوضِ کوثر بھی داخل ہے جس سے آقا ومولیٰ ﷺ  میدانِ حشر میں اپنی امت کو سیراب فرمائیں گے۔

آخری روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل نہر کوثر جنت میں ہے اور اس نہر سے دو پرنالوں کے ذریعے حوضِ کوثر میں پانی ڈالا جائے گا۔

آبِ کوثر کی فضیلت میں آقا و مولیٰ کا فرمانِ ذیشان ہے،

اس حوض سے پینے والا جنت میں جانے تک پیاسا نہیں ہوگا۔

 

ایک دن آقا و مولیٰ منبر پر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:

میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔ بیشک اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، اور بیشک مجھے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں دے دی گئیں ہیں، اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! مجھے تم پر یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے یہ خطرہ ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤگے۔

 

اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ:

آقا و مولیٰ اپنی امت کے اعمال پر گواہ ہیں اور گواہی بغیر دیکھے مقبول نہیں ہوتی۔ آپ صرف امت کے اعمال ہی ملاحظہ نہیں فرماتے بلکہ حوضِ کوثر بھی آپ کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up