Anwaar ul Quran

Total Pages: 164

Page 132 of 164

حوضِ کوثر کے متعلق اس قدر صحیح احادیث آئی ہیں جو تواتر کو پہنچتی ہیں۔

قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی رحمہ اللّٰہ نے حوضِ کوثر کے راوی صحابہ کرام کی تعداد پچاس سے زا”ئد بتائی ہے۔

بعض مفسرین کے نزدیک کوثر سے مراد قرآن کریم، بعض کے نزدیک دینِ اسلام، بعض کے نزدیک شفاعت اور مقامِ محمود ہے، بعض کے نزدیک علوم نبوت ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے مراد کثیر اولاد ہے۔

آخر الذکر قول کے متعلق امام رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

’’اس کے معنی یہ ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ایسی نسل عطا فرمائے گا جو ہمیشہ باقی رہے گی۔ تم دیکھو! کتنے اہلِ بیت شہید کیے گئے، اس کے باوجود دنیا ان سے بھری ہوئی ہے‘‘۔

غیب بتانے والے آقا کریم کے ایک ارشادِ پاک سے حوضِ کوثر، قرآنِ مجید اور اہلبیتِ اطہار کے درمیان باہم خاص ربط و تعلق ظاہر ہوتا ہے۔

 

ارشاد ہوا:

’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوط تھامے رہو گے گمراہ نہیں ہوگے۔

ایک ہے اللّٰہ کی کتاب، یہ اللّٰہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہے۔

اور دوسری چیز ہے:

میری اولادجو میرے اہلبیت ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہونگے حتیٰ کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر آ جائیں گے‘‘۔

 

علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللّٰہ ایسے متعدد اقوال ذکر کر کے خلاصہ لکھتے ہیں:

’’یہ بات ظاہر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کوظاہری و باطنی جو نعمتیں بھی عطا فرمائی ہیں وہ سب کوثر کے مفہوم میں داخل ہیں۔ ظاہری نعمتوں سے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مراد ہیں اور باطنی نعمتوں سے مراد وہ علومِ لدنیہ ہیں جو بغیر کوشش کے محض رب تعالیٰ کے کرم سے آپ کو عطا ہوئے‘‘۔

 

اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ:

اس سورت کے آغاز میں لفظ’’ اِنَّا‘‘ فرمایا گیا جس میں ’’اِنَّ‘‘حرفِ تاکید ہے جو قسم کے قائم مقام ہوتا ہے یعنی جو مضمون بیان ہو رہا ہے اس میں ہرگز کسی قسم کا شک نہ کیا جائے۔

لفظ ’’ اِنَّا‘‘جمع کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور عظمت و شان کے اظہار کے لیے بھی۔ چونکہ اللّٰہ تعالیٰ ایک ہے اس لیے یہاں دوسری صورت یعنی تعظیم مراد ہوگی۔

 

اب اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ:

آپ کو کوثر عطا فرمانے والا، تمام مخلوق کا خالق و مالک اور عظمت و قدرت والا ہے۔ یہاں عطیہ کو لفظ ’’کوثر‘‘ سے تعبیر کیا گیا جو کہ کثرت میں مبالغہ ہے اور اس عطیہ کی عظمت کی دلیل ہے نیز یہ کہ خالقِ کائنات کی طرف سے عطا کیے جانے کی وجہ سے اس عظیم عطیہ کی عظمت و کمال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

مقامِ غور ہے کہ عطیہ عظمت والا ہے، عطا فرمانے والا بڑی عظمت والا ہے تو وہ ہستی کس قدر عظیم ہو گی جسے عظمت والے رب نے براہِ راست خطاب فرما کر اُس عظیم عطیہ سے نوازا ہے۔

عربی زبان میں اِیْتَاء اور اَعطاء دونوں کا معنی دینا اور عطا کرنا ہے۔

اَعْطَاء میں ملکیت کا معنی پایا جاتا ہے جبکہ اِیتاَء میں یہ معنی نہیں ہے۔

 

قرآن کریم میں ہے کہ حضرت سلیمان نے بارگاہِ الٰہی میں سلطنت و بادشاہت کے لیے دعا کی،

{ھَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ}

’’مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو‘‘۔ (پ23،ص:35)

تو رب تعالیٰ نے انہیں ایسی سلطنت عطا فرمادی اور ارشاد ہوا:

{ھٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ}

’’یہ ہماری عطا ہے، اب تو چاہے تو احسان کر یا روک رکھ ، تجھ پر کچھ حساب نہیں‘‘۔ ( پ23،ص:39)

اسی طرح رب تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے محبوب رسول کو کوثر عطا فرما کر اس کا مالک بنا دیا، اب آپ جس کو چاہیں اس کوثر سے کچھ عطا فرما دیں اور جس کو چاہیں کچھ نہ دیں۔

Share:
keyboard_arrow_up