دوسرا نکتہ یہ ہے کہ: عربی میں ’’اَعطاء‘‘ اُس عطا کرنے کو کہتے ہیں جو دینے والا محض اپنے فضل و کرم سے دے، وہ کسی چیز کا بدلہ نہ ہو۔
چنانچہ اس آیت کریمہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ رب کریم کا اپنے حبیب ﷺ کو ’’کوثر‘‘ عطا فرمانا کسی عمل کی جزا نہیں ہے بلکہ محض اس کا فضل و کرم ہے اور حضور ﷺ کی شانِ محبوبیت کا اعلان ہے۔
ایک اور قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ:
رب تعالیٰ نے یہاں ماضی کا صیغہ ذکر کیا، کہ’’ ہم نے آپ کو کوثر عطا فرما دیا‘‘۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کو ’’کوثر‘‘ ماضی میں عطا کیا جا چکا ہے۔ نیز خطاب میں’’ک‘‘فرمایا گیا تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ عطا صرف حضور ﷺ کے لیے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔ جس کو اس عطا کی برکتیں نصیب ہو نگی وہ صرف حضور ﷺ ہی کے طفیل ہوں گی۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا یہ فرمانِ ذیشان اسی حقیقت کا بیان ہے،
اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ۔
بیشک اللّٰہ عطا فرماتا ہے اور میں اس کی نعمتیں تقسیم کرتا ہوں۔
ایک اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن حکیم میں جہاں جہاں بھی رسولِ معظم ﷺ کی شان و عظمت بیان ہوئی ہے وہاں پہلے رب تعالیٰ نے اپنا ذکر کیا ہے پھر حضور ﷺ کی شان ارشاد فرمائی ہے۔
مثلاً:
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ}
’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے‘‘۔(پ17،انبیا:107)
{اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا}
’’بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضرو ناظر اور خوشی اور ڈرسناتا‘‘۔(پ26،فتح:8)
{سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً}
’’پاکی ہے اُسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا‘‘۔(پ15،بنی اسرائیل:1)
اسی طرح یہاں ارشاد ہے،
’’بیشک ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں‘‘۔
اس اندازِ بیان میں دو حکمتیں ہیں۔
ایک یہ کہ حضور ﷺ کی بلند شان دیکھ کر کوئی آپ کو خدا نہ سمجھے۔
دوم یہ کہ کوئی کم عقل حبیبِ مکرم ﷺ کی عظمت کا انکار نہ کر سکے۔
حبیبِ کبریاء ﷺ کی عظمت و شان اور خصائص و کمالات کا انکار کرنا دراصل اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور عطا کا انکار کرنا ہے۔
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ:
رسول کریم ﷺ کو ’’کوثر‘‘یعنی دنیا و آخرت کی بیشمار نعمتیں اور خوبیاں بلکہ ہر بھلائی کثرت سے عطا فرمانے کے بعد رب تعالیٰ نے شکر ادا کرنے کے لیے دو چیزوں کی ہدایت فرمائی۔
اول: نماز،
دوم: قربانی۔
جسمانی عبادات میں سب سے اہم اور عظیم عبادت نماز ہے۔
نیز نماز کو ’’کوثر‘‘ سے اس طرح بھی خاص مناسبت ہے کہ اس میں خالق و مالک سے مناجات اور رکوع و سجدہ میں عجز و نیاز، شہد سے زیادہ شیریں ہیں، اور نمازی پر جو انوارِ غیبیہ نازل ہوتے ہیں وہ دودھ سے زیادہ سفید و روشن ہوتے ہیں، اور پھر اس عبادت سے دل و دماغ کو ایسا سرور و سکون نصیب ہوتا ہے کہ جیسے صحرا کے پیاسے مسافر کو سخت دھوپ میں برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی مل جائے۔
نورِ مجسم رحمتِ عالم ﷺ کے ارشادِ پاک: قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ
(نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے)میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔
ارشادِ ربانی ہوا،
صرف اپنے رب کے لیے نماز پڑھو ۔ گویا کمالِ اخلاص کے ساتھ کامل ترین عبادت کا حکم دیا گیا اور آقا و مولیٰ ﷺ نے اس حکمِ الہٰی کی ایسی تعمیل فرمائی کہ اکثر رات بھر کھڑے رہ کر نماز ادا فرماتے یہاں تک کہ پاؤں مبارک سُوج جاتے۔
ایک بار حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے عرض کی،
یارسول اللّٰہ ﷺ! آپ اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟
آپ نے فرمایا:
افلا اکون عبداً شکوراً۔
کیا میں اپنے رب کا شکر گذار بندہ نہ بنوں!

